1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میکسیکو: منشیات کے خلاف جنگ کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ

شمالی امریکی ملک میکسیکو کے انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سن 2006 سے لے کر اب تک ہزاروں افراد انسداد منشیات کی جنگ کے دوران لاپتہ ہو چکے ہیں۔

default

میکسیکو میں پکڑی گئی منشیات

اس کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر Felipe Calderon کی جانب سے اس جنگ کے اعلان کے بعد مختلف اوقات میں ملک کے اندر سے پانچ ہزار 397 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان کے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہے۔ ان لاپتہ افراد کے خاندان اب بھی اُن کی واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ کئی خاندان انتہائی پیچیدہ اور مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میکسیکو میں لاپتہ افراد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ذیلی ورکنگ گروپ کی جانب سے بھی لاپتہ افراد کے بارے میں ایک ریسرچ رپورٹ مکمل کی گئی ہے۔ اس ریسرچ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت کے سلامتی کے نگران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ فوج بھی ان افراد کی گمشدگی میں ملوث ہو سکتی ہے۔

NO FLASH Symbolbild Drogenkrieg Mexiko

میکسیکو کے فوجی کمانڈوز گرفتار ہونے والے اسمگلروں کے ساتھ

ملکی صدر فیلیپے کلڈیران نے منشیات فروشوں کے قلع قمع کے لیے پچاس ہزار کی فوجی نفری کو تعینات کر رکھا ہے۔ کلڈیران نے سن 2006 میں منصب صدارت سنبھالا تھا اور تب سے تقریباً چونتیس ہزار افراد منشیات فروشوں کے خلاف جاری جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

میکسیکو کے انسانی حقوق کے کمیشن (CNDH) کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں لاپتہ افراد میں تین ہزار 457 مرد ہیں اور ایک ہزار 885 خواتین ہیں۔ جب کہ بقیہ پچپن افراد کے بارے میں حکومتی اداروں یا اس کام سے وابستہ دیگر تنظیموں کے پاس کوئی ڈیٹا یا معلومات قطعاً دستیاب نہیں ہے۔ میکسیکو کے انسانی حقوق کے کمیشن نے اس کا بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اب اس انکوائری میں مصروف ہے کہ یہ ہزاروں لوگ کیوں کر اور کیسے لاپتہ یا غائب ہوئے ہیں۔

اس مناسبت سے اقوام متحدہ کے خصوصی ورکنگ گروپ نے صدر فیلیپے کلڈیران سے اپیل کی ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن میں شریک فوج کو واپس طلب کرلیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس