1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میکسیکو عالمی ایڈز کانفرنس

ایڈز کےموذی مرض پر حکومتی، طبی اور سماجی سطح پر ہونےوالی تحقیق کا عالمی فورم تین سے نو اگست تک لاطینی امریکہ کےاہم شہر میکسیکو سٹی میں جاری رہے گا۔

default

ایڈز مرض سے بچاؤ کے دِن کی مناسبت سے ایک پوسٹر

لاطینی امریکہ میں موذی مرض ایڈز سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے۔ چھ روزہ کانفرنس میں ہزاروں مندوبین شریک ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی سترہویں کانفرنس ہے۔ بائیس ہزار کے ہجوم میں پچیس سو کے قریب ایڈز کےمریض بھی شریک ہوں گے۔

AIDS-Konferenz in Toronto

سولہویں عالمی ایڈز کانفرنس منعقدہ ٹورنٹو کینیڈا میں شریک سابق امریکی صدر بِل کلنٹن

اِس سے پہلے سولہویں عالمی ایڈز کانفرنس دو سال قبل کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں منعقد ہوئی تھی۔ پندرہویں ایڈز کانفرنس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ عالمی ایڈزکانفرنسوں میں دنیا کے کئی شہروں کو میزبانی کا حق ضرور ملا مگر اُن کے معاشروں میں یہ سوال اہم ہے کہ ایڈز کا مریض معاشرے سے کٹ کر کیوں رہ جاتا ہے۔

AIDS Konferenz in Bangkok Nelson Mandela

سن دو ہزار چار میں پندرہویں عالمی ایڈز کانفرنس منعقدہ بینکاک کے شرکاء سے نوبل انعام یافتہ افریقر لیڈر نیلسن مینڈیلا خطاب کر رہےہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اِس سے پہلے کی کانفرنس اِس مرض کے تدارک میں ناکام دکھائی دیتی ہیں کیونکہ طبی سطح کے علاوہ سماجی سطح پر بھی ایڈز کے مریض کئی ملکوں میں اچھوت کی حیثیت اختیار کرجاتےہیں۔ اِس مناسبت سے آگہی اور شعور کے عملی پروگرام بے اثر رہےہیں۔

Frau mit AIDS in Indien

ایڈز کی ایک بھارتی مریضہ منہ چھپائے ہوئے

کانفرنس کے انعقاد سے قبل ایڈز کے ہزاروں مریضوں کےحقوق اور مرض کا شعور دینے والے سرگرم کارکنوں نےہفتے کے دِن میکسیکو سٹی میں عالمی سطح پر بالعُمُوم اورسماجی سطح پر بالخصوص پائے جانےوالے امتیازی رویّے کےخلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ اِس احتجاجی جلوس میں کارکنوں اور مریضوں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرست بھی شریک تھے۔ اِس احتجاج کا اہتمام بھی ہم جنس پرستوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔

عالمی ایڈز کانفرنس میں ریسرچرز کے ساتھ ساتھ حکومتوں کے پالیسی ساز بھی شرکت کر رہےہیں۔ کانفرنس کےدوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی شرکت بھی متوقع ہے۔

کانفرنس کے تمام اجلاس عام نہیں ہیں۔ میڈیا کوریج بھی محدود ہے۔ ہر شریک فرد کو ایک خاص سٹکر دیا گیا ہے جو میڈیا اور فوٹو گرافر کی راہ نمائی کے لئے ہو گا کہ اُس کی تصویر لی جا سکتی ہے یا نہیں اور اسی طرح وہ میڈیا سے بات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ رضامندی کی صورت میں یہ بھی طے پا گیا ہے کہ انٹرویو دینےوالے شخص کے ملک میں وہ نشر نہیں ہو گا۔