’میڈ ڈاگ‘ امریکا کے نئے وزیر دفاع ہوں گے | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میڈ ڈاگ‘ امریکا کے نئے وزیر دفاع ہوں گے

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہا ہے کہ جنرل جیمز ماٹس ملک کے نئے وزیرِ دفاع ہوں گے۔ جنرل جیمز ماٹِس کو ’’میڈ ڈاگ‘‘ ماٹس بھی کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے ان کی نامزدگی کا اعلان اوہائیو میں کیا۔

انتخابی کامیابی کے بعد نو منتخب صدر نے اپنے ’’تھینک یو ٹورز‘‘ کے آغاز میں امریکی ریاست اوہائیو میں گزشتہ شب اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ اسی خطاب کے دوران انہوں نے جنرل جیمز ماٹس کی بطور ملکی وزیر دفاع نامزدگی کا اعلان کیا۔

نامزد امریکی وزیر دفاع 66 سالہ جیمز ماٹِس ریٹائرڈ فور اسٹار میرین جنرل ہیں۔ وہ نہ صرف افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں بلکہ انہوں نے 2010ء سے 2013ء تک مشرق وُسطیٰ اور جنوب مغربی ایشیا کے لیے امریکی فورسز کی کمانڈ بھی کی۔ وہ 2013ء میں بطور جنگی کمانڈر ریٹائر ہوئے۔ جیمز ماٹس مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر ایران کے حوالے سے صدر باراک اوباما کی پالیسیوں کے ناقدین میں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیمز ماٹِس جنگی معاملات کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور ایران کی طرف سے خطرات کا معاملہ ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔

USA Donald Trump bestimmt James Mattis zum US-Verteidigungsminister (Getty Images/D. Angerer)

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیمز ماٹِس اس کام کے لیے بہترین فرد ہیں

ریاست اوہائیو کے شہر سنسناٹی میں اپنے حامیوں کی پر زور تالیوں کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا، ’’ہم میڈ ڈاگ ماٹس کو اپنا سیکرٹری دفاع مقرر کریں گے۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس کام کے لیے بہترین فرد ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جنرل جیمز ماٹس دوسرے ریٹائرڈ فوجی جنرل ہیں، جنہیں ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل وہ لیفٹیننٹ جرنل مائک فلِن کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزز مقرر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔