1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میڈیا انڈسٹری میں بھی مردوں کی اجارہ داری

طویل عرصے تک بوائز کلب کہلانے والی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں اب بھی مردوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی متعدد نیوز رومز میں صنف نازک کو مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔

default

انٹرنیشنل وومنز میڈیا فاؤنڈیشن نے دنیا کے 59 ممالک کے 500 صحافتی اداروں کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔ اس میں میڈیا کی صنعت سے وابستہ لگ بھگ دو لاکھ افراد کے پیشہ ورانہ امور کو پرکھا گیا اور دفاتر میں خواتین کی نمائندگی معلوم کی گئی۔ دو سالہ اس محنت سے ثابت ہوا کہ میڈیا میں اعلیٰ انتظامی عہدوں، اشاعت، رپورٹنگ، ادارت، فوٹو جرنلزم، اور براڈ کاسٹنگ میں خواتین کو مردوں کے مساوی نمائندگی حاصل نہیں۔

تفصیلات کے مطابق رپورٹنگ کے شعبے میں دو تہائی تعداد مرد صحافیوں کی ہے جبکہ ایک تہائی نمائندگی خواتین کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس ادارت جیسے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی قدرے بہتر ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں میڈیا کی انڈسٹری میں بڑی تعداد میں خواتین آئیں تاہم اعلیٰ انتظامی عہدوں پر اب بھی مردوں کو زیادہ نمائندگی حاصل ہے۔

USA Museum für Nachrichten Newseum in Washington

دلچسپ حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک سمیت دنیا کے 20 ممالک میں خواتین کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے ایک نظر نہ آنے والی رکاوٹ کا سامنا ہے۔

انٹرنیشنل وومنز میدیا فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لیزا گروس کے مطابق جن ممالک میں خواتین کو میڈیا کے شعبے میں بہتر نمائندگی حاصل ہے وہاں جنسی برابری کو یقینی بنانے کے لیے قوانین موجود ہیں۔ اس رپورٹ کی اہمیت یوں بھی زیادہ ہے کہ رواں ہفتے بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار واشنگٹن میں انٹرنیشنل ویمن میڈیا لیڈرز کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔

انٹرنیشنل وومنز میدیا فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے نیوز چینلز میں مرد و خواتین کا تناسب چھ ایک ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں 80 فیصد اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین تعنیات ہیں۔ ایک اور نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ بظاہر مردوں کی اجارہ داری کی وجہ سے رپورٹنگ میں بھی اکثر اوقات مردوں کو ہی ذرائع کے طور پیش کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM