1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میڈیا، امریکی عوام کا دشمن ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ملکی ذرائع ابلاغ پر تنقیدی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے امریکا کے تمام اہم اور بڑے میڈیا ہاؤسز کو امریکی عوام کا دشمن قرار دیا ہے۔

منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اپنا تیسرا ویک اینڈ بھی فلوریڈا گزارنے پہنچ گئے ہیں جہاں سے ایک ٹویٹ میں انہوں نے امریکی میڈیا کے بڑے اداروں کو جعلی قرار دیتے ہوئے اُن کے نام بھی لکھے۔ انہوں نے این بی سی، اے بی سی، سی بی ایس اور سی این این جیسے میڈیا مراکز کو امریکی عوام کا دشمن قرار دیا۔

اس سے قبل بھی اپنے ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز، سی این این، این بی سی اور بہت سارے دوسرے میڈیا سینٹرز کو ’’سِک‘‘ یا بیمار قرار دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن جیتنے سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی امریکی ذرائع ابلاغ پر تند و تیز تنقید کی تھی۔

وہ صدر بننے کے بعد بھی اسی سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا مراکز کے خلاف ٹرمپ نے جو تنقیدی مہم شروع کر رکھی ہے، اُس میں انہوں نے تقریباً سارے امریکی میڈیا کو متصب اور جانبدار قرار دیا ہے۔

صحافیوں کو بھی تواتر کے ساتھ اپنا نشانہ بنانے والے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اُن کی کارکردگی کی مناسب انداز میں تعریف نہیں کرتے اور نہ ہی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے جمعرات سولہ فروری کی پریس کانفرنس بھی میڈیا اور ٹرمپ کے درمیان پائی جانے والی اس پرخاش کی عکاس تھی۔

U.S. President Trump departs news conference at the White House in Washington (Reuters/K. Lamarque)

ڈونلڈ ٹرمپ ایک پریس کانفرنس ختم کر کے رخصت ہوئے

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی زیادہ تر نیوز کانفرنسوں کے دوران یہ کہا کہ واشنگٹن کا میڈیا اور دوسرے شہروں مثلاً نیویارک، لاس اینجلس وغیرہ کے ذرائع ابلاغ کے مراکز امریکی عوام کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مخصوص مفادات کے نگران ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ پریس کی بددیانتی اب قابو سے باہر ہو چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا ٹرمپ کی چار ہفتوں پر مشتمل صدارت کے بعض معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ ان میں قومی سلامتی کے مشیر کا مستعفی ہونا، ایک نامزد وزیر کی توثیق سے قبل دستبرداری، مہاجرین کی پالیسی پرعدالت میں ہونے والی ناکامی اور نقصان پہنچانے والی خفیہ معلومات کا افشا ہونا اہم ہیں۔

ماضی میں بھی امریکی صدور ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن ٹرمپ کے الفاظ اور لہجے کو میڈیا نے دنیا کے مطلق العنان حکمرانوں جیسا قرار دیتے ہوئے جمہوری اقدار کے منافی خیال قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے کئی تبصروں کو مبصرین نے دستور کی پہلی ترمیم کے منافی کہا ہے، امریکی دستور میں کی جانے والی پہلی ترمیم پریس فریڈم سے متعلق ہے۔