1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

میڈونا کی وجہ شہرت اس کے گیت نہیں

پسماندہ افریقی ملک ملاوی کے بیشتر شہری معروف گلوکارہ میڈونا کو اس کے گیتوں کی وجہ سے نہیں جانتے۔ وہ میڈونا کو محض ایک فرشتہ صفت خاتون کے طور پر جانتے ہیں جس نے وہاں کے غریب اور یتیم بچّوں کو گود لیا۔

default

ملاوی کے عوام کے لئے میڈونا گلوکارہ نہیں، فرشتہ صفت خاتون ہے

ملاوی کے شہر زومبا میں کیلے فروخت کرنے والی ایک خاتون علیزہ مینیوزا کہتی ہے کہ اس نے میڈونا کا ایک بھی گانا نہیں سنا لیکن وہ یہ ضرور جانتی ہے کہ میڈونا ایک نفیس خاتون ہے جو اس کے شہر کے بچّوں کی مدد کرنا چاہتی ہے۔

Jahresrückblick 2007 April Madonna Adoptivkind

میڈونا نے ڈیوڈ بنڈا کو ایک یتیم خانے میں دیکھا اور پھر گود لے لیا

مینیوزا یہ بھی جانتی ہے کہ میڈونا نے تین سال قبل ایک شیرخوار ڈیوڈ بنڈا کو ایک یتیم خانے میں دیکھا اور پھر گود لے لیا۔ مینیوزا کو ابھی ابھی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملاوی کی عدالت عظمیٰ نے میڈونا کو ملک سے دوسرا بچّہ گود لینے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس مرتبہ یہ ایک بچّی ہے جس کا نام مرسی جیمز ہے۔ مینیوزا نے اس بات پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا کہ بچّی جیمز جمعہ کو میڈونا کے ساتھ رہنے کے لئے لندن روانہ ہو گئی۔

ملاوی میں یتیم بچّوں کا مسئلہ ایک المیہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق ایڈس کے وائرس کے مرض کے باعث 15 لاکھ بچّے یتیم ہو چکے ہیں جو ملک کی مجموعی آبادی کے 10 فیصد کے برابر ہیں۔

وزارت بہبودِ اطفال و خواتین سے وابستہ سائرس جیک کہتے ہیں کہ ملک میں بحران کی سی کیفیت ہے جبکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کافی وسائل دستیاب نہیں ہیں۔

Madonna auf ihrer Reise nach Malawi

ملاوی میں یتیم بچوں کے لئے میڈونا نے متعدد منصوبے شروع کئے

تاہم بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم آئی آف دی چائلڈ کے بونیفیس مینڈیر کا مؤقف ہے کہ حکومت کے پاس بچّوں کی فلاح کے منصوبے چلانے کے لئے مناسب مالی وسائل ہیں۔

میڈونا نے اس حوالے سے متعدد منصوبے شروع کئے ہیں۔ اس نے وہاں "ریزنگ ملاوی" کے نام سے ایک فلاحی ادارے کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ اس تنظیم نے ملک میں ایک جدید ہاسٹل قائم کیا ہے۔ یہ اسی یتیم خانے میں بنایا گیا جہاں میڈونا نے ڈیوڈ کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ میڈونا نے ملاوی میں ایک ’’ڈے کیئر‘‘ سینٹر بھی قائم کرکھا ہے۔

انسانی حقوق کے ایک کارکن مووکاسونگرا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ملاوی میں یتیم بچّوں کی حالت زار کے بارے میں آگاہی کے لئے ایک غیر ملکی کو آنا پڑا ہے جبکہ مقامی سطح پر مسئلے کی سنگینی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یتیم بچّوں کی فلاح و بہبود کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔