1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میچ فکسنگ سکینڈل:پاکستانی حکومتی حلقے پریشان

انگلینڈ کے خلاف چوتھے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن ایک مشتبہ شخص کی حراست اور اس کے ممکنہ پاکستانی کھلاڑیوں کے رابطوں کی خبر نےکرکٹ کی دنیا میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ تین پاکستانی کرکٹر سے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

default

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لارڈز ٹیسٹ میچ کے دوران میچ فکسنگ کی خبر پر کہا ہے کہ اس سے پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ انہوں نے وزارت کھیل کے حکام کو علیحدہ سے انکوائری کنڈکٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستانی صدر زرداری نے بھی کرکٹ بورڈ کے چیرمین اعجاز بٹ سے میچ فکسنگ معاملے کی ابتدائی رپورٹ فوری طور پر طلب کر لی ہے۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ کی تازہ خبر سے صدر کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔

ایسی ہی کیفیت پاکستان کے دوسرے حلقوں میں پائی گئی ہے۔ کھیل کی وزارت کے وفاقی وزیر اعجاز جاکھرانی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی اس تازہ سکینڈل میں ملوث پایا گیا تو وہ تاحیات پابندی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔ جاکھرانی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی حکومت برطانوی پولیس کی تفتیش کے نتیجے کا انتظار کر رہی ہے اور ان کی جانب سے کسی بھی

Pakistan Kricket Team in England

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے

کھلاڑی کی نشاندہی کے بعد اس کو مثالی سزا دی جائے گی۔ جاکھرانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی ملوث ہے تو وہ ابھی سے یقین کر لے کہ اس کا پاکستانی کرکٹ کے ساتھ رشتہ ختم ہو گیا ہے اور مستقبل میں ایسے کھلاڑی کو کسی طور ٹیم یا کھیل کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی پولیس نے اپنی تفتیشی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تین پاکستانی کرکٹر سے علیحدہ علیحدہ پولیس اہلکاروں نے بات کی۔ ان کھلاڑیوں میں تیز گیند باز محمد آصف اور محمد عامر کے علاوہ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ بھی شامل ہیں۔ تینوں کھلاڑیوں کے موبائل فون کو پولیس حکام نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ برطانوی پولیس کے کھوجی معاملے کی طے تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ اس مناسبت سے ایک شخص کو پابند کیا جا چکا ہے جو میچ فکسنگ میں مڈل مین کا کردار ادا کر رہا تھا۔

لندن میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر یاور سعید نے کپتان سلمان بٹ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ پاکستان میں کرکٹ کھیل کا شعبہ مجموعی طور پر کرپشن سے پاک ہے۔ اس سلسلے میں انفرادی رویوں کو پورے شعبے کی پہچان نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ میچ فکسنگ کی تفتیش اپنی جگہ پر ہے لیکن ان کی ٹیم پانچ ستمبر سے محدود اوورز کے میچوں پر اب توجہ فوکس کرچکی ہے ۔ یاور سعید کا یہ بھی کہنا تھا جب تک حتمی طور پر ثابت نہیں ہو جاتا کسی فرد پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس