1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میونخ میں نو افراد کے قاتل کو ’ترکوں اور عربوں سے نفرت‘ تھی

حال ہی میں جرمن شہر میونخ میں نو افراد کو قتل کرنے والے ایرانی نژاد نوجوان جرمن شہری کے بارے میں تفتیشی ماہرین کو پتہ چلا ہے کہ وہ دائیں بازو کا ایک انتہا پسند تھا اور ’ترکوں اور عربوں سے نفرت‘ کرتا تھا۔

جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ ستائیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی سوچ کا حامل یہ سترہ سالہ نوجوان نازی رہنما اڈولف ہٹلر کو جنون کی حد تک پسند کرتا تھا۔

فرینکفرٹ سے شائع ہونے والے جرمن روزنامے فرانکفرٹر الگمائنے سائٹُنگ (FAZ) کی ایک رپورٹ میں اس خونریز واقعے کی چھان بین کرنے والے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ ایرانی نسل کے اس جرمن شہری کی پیدائش کی تاریخ اور مہینہ بھی وہی تھے، جو اڈولف ہٹلر کے تھے۔

ایف اے زیڈ نے لکھا ہے کہ جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر جمعہ بائیس جولائی کو فائرنگ کر کے علی ڈیوڈ ایس نامی جو نوجوان نو افراد کی ہلاکت کی وجہ بنا، وہ خود کو بطور انسان جرمنی میں ’ترک اور عرب نسل کے باشندوں سے برتر‘ تصور کرتا تھا۔

فرانکفرٹر الگمائنے کی رپورٹ کے مطابق جرمن تفتیشی ماہرین اپنی چھان بین سے اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ علی ڈیوڈ کو ایرانی نژاد ہونے کی وجہ سے اپنی ’آریا میراث‘ پر بھی فخر تھا اور اس بات کو بھی وہ اپنے اور نازی طرز فکر کے مابین قدر مشترک کے طور پر دیکھتا تھا۔

علی ڈیوڈ ایس نے میونخ کے اولمپیا شاپنگ سینٹر میں ایک میکڈونلڈز فاسٹ فوڈ ریستوران کے باہر فائرنگ کر کے جن نو افراد کو قتل کیا تھا، ان میں سے زیادہ تر نسلی اور ثقافتی پس منظر کے لحاظ سے غیر جرمن تھے۔ اس اجتماعی قتل کے واقعے میں ٹین ایجر حملہ آور کے ہاتھوں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے اور بعد ازاں اس نے اپنے نیم خودکار پستول کا رخ اپنی ہی طرف کر کے خود کشی کر لی تھی۔

آج شائع ہونے والی اخباری رپورٹ کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ایف اے زیڈ کے شائع کردہ حقائق باویریا میں صوبائی حکام اور پولیس کے ان بیانات سے متصادم ہیں، جن میں کہا گیا تھا کہ اندھا دھند فائرنگ اور اجتماعی قتل کے اس واقعے کا کوئی سیاسی محرک نہیں تھا۔ ساتھ ہی سرکاری اہلکاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس جنونی قاتل نے جن افراد کو قتل کیا، ان کا انتخاب اس نے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں کیا تھا۔

دوسری طرف یہ بات بھی غیر اہم نہیں ہے کہ تفتیشی ماہرین کو اب تک اس جرم سے متعلق جتنے بھی شواہد ملے ہیں، وہ بظاہر اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ علی ڈیوڈ نے بڑے ہی نپے تلے انداز میں قریب ایک سال تک اس حملے کی تیاری کی تھی۔

DW.COM