1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میونخ حملہ: ’ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری اقدار ہیں‘، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ہفتے کے روز برلن میں چانسلر دفتر سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میونخ میں حملوں کے بعد اس شہر کو ایک ’ہیبت ناک رات‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

میرکل نے یہ بات جمعے کی شب جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ کے اولمپیا شاپنگ سینٹر میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے تناظر میں کہی۔ میرکل نے اس دہشت گردانہ واقعے کے بعد اپنے پہلے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’میونخ کے لوگوں کو ایک بھیانک رات سے گزرنا پڑا ہے۔‘‘ میرکل کا مزید کہنا تھا،’’ ایک ایسی رات کو برداشت کرنا ہم سب ہی کے لیے بہت مشکل ہے۔‘‘

میرکل نے جمعے کو میونخ شاپنگ مال میں ہونے والے اس دہشت گردانہ واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت کی طرف سے کہہ رہی ہوں، ہم سب بوجھل دل سے اُن افراد کے سوگ میں شریک ہیں جو اب کبھی اپنے خاندان والوں کے پاس نہیں لوٹیں گے۔‘‘

Nach Schießerei in München

میونخ فائرنگ کے واقعے کے بعد مقامی باشندوں نے ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا

جرمن چانسلر نے میونخ کے اُن شہریوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے فائرنگ کے دہشت گردانہ واقعے کے موقع پر اپنی جان بچا کر فرار ہونے والوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے اس پیش کش کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا تھا۔ میرکل کے بقول، ’’ان افراد کے اس عمل نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ہم ایک آزاد معاشرے میں رہ رہے ہیں اور یہ رویہ انسانیت ظاہر کرتا ہے۔‘‘ چانسلر میرکل نے یہ بھی کہا کہ، ’’ہماری سب سے بڑی طاقت ان اقدار میں مضمر ہیں۔‘‘

گزشتہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں جرمن شہر میونخ میں ہونے والے دہشت گردی کے دو واقعات کے تناظر میں میرکل نے مزید کہا، ’’جرمنی کے تمام افراد کی سلامتی اور آزادی کی حفاظت کے لیے ملک کی سکیورٹی سروسز ہر ممکن کوششیں کریں گی۔‘‘

برلن میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میرکل کا کہنا تھا، ’’گزشتہ پیر کی شب کو ایک مقامی ٹرین میں اور جمعے کی شام شاپنگ مال میں ہونے والی مہلک جنونی دہشت گردانہ کارروائیاں ایسے مقامات پر کی گئیں جہاں ہم سے کوئی بھی موجود ہو سکتا تھا۔ ان واقعات نے جرمن باشندوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آخر کون سے مقامات اب محفوظ رہ گئے ہیں؟‘‘

Nach Schießerei in München Polizei

میونخ میں سکیورٹی ہائی الرٹ

میرکل نے اس موقوع پر فرانسیسی شہر نیس میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کو بھی یورپ بھر میں تشویش اور ہیبت کا سبب بننے والے سلسلہ وار واقعات کی کڑی قرار دیا۔

اُدھر فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے جمعے کے روز میونخ میں ہونے والے فائرنگ کے خون ریز واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کو فرانس کی دوستی اور تعاون کا بھرپور یقین دلایا۔ ساتھ ہی اولانڈ نے بھی ہفتے کو پیرس حکومت کے وزراء کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں 14 جولائی کو نیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے اثرات اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

DW.COM