1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میونخ: بچے اور نوجوان حملہ آور کی فائرنگ کا نشانہ بنے

میونخ کی پولیس نے کہا ہے کہ شہر کے ایک مصروف شاپنگ مال میں فائرنگ کرنے والا ایک اٹھاہ سالہ ایرانی نژاد جرمن تھا۔

ہفتے کو علی الصبح میونخ پولیس کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولمپیا شاپنگ سینٹر پر فائرنگ کر کے 9 افراد کو ہلاک کرنے والا مجرم 18 سالہ ایرانی نژاد جرمن نوجوان تھا۔ پولیس کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے مقاصد ’بالکل غیر واضح‘ ہیں۔

پولیس چیف ہوبرٹُس آندریا نے جمعے کو ہونے والی خونریزی کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں مسلح حملہ آور سمیت 10 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان اور بچے بھی شامل ہیں۔

بیس سے زیادہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اب تک کی جانے والی تفتیشی کارروائی سے پتا چلا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں حملہ آور تنہا تھا۔ واضح رہے کہ اس واقعے کے فوراً بعد پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد غالباً تین ہے، جو فائرنگ کے بعد فرار ہونے کی کوشش میں ہیں۔ اس واقعے کے آغاز پر ایک حملہ آور نے ایک فاسٹ فوڈ ریستوراں کے باہر راہگیروں پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔

پولیس چیف کے بقول،’’اس جرم کا نہ تو مقصد واضح ہے نہ ہی اس کی کوئی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے۔‘‘ ہوبرٹُس آندریا نے مزید کہا کہ خود کو گولی سے اڑانے سے پہلے میونخ کے اس مصروف شاپنگ مال میں فائر کھول دینے والے نوجوان کے پاس دوہری شہریت تھی تاہم اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ پولیس کے پاس پہلے سے موجود نہیں تھا۔

فائرنگ کرنے والے کی لاش میونخ کے شاپنگ مال سے کوئی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر پائی گئی۔ پولیس چیف ہوبرٹُس آندریا نے کہا ہے کہ 21 افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے یں جن میں سے 16 ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت شدید تشویشناک ہے۔

Deutschland Olympia Einkaufszentrum in München Polizeichef Andra-Adressen

میونخ کے پولیس چیف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور ایرانی نژاد جرمن تھا جو میونخ کا رہائشی تھا۔

جمعے کو میونخ کے پُرہجوم شاپنگ مال اور ایک قریبی فاسٹ فوڈ ریستوراں ’مک ڈونلڈ‘ کے نزدیک ہونے والے اس ہولناک واقعے کے بعد میونخ میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کے سات سے زائد گھنٹوں بعد پولیس نے محتاط انداز میں حالات کی وضاحت کر دی ہے۔

دریں اثناء فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے میونخ کے دہشت گردانہ واقعے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’متعدد افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والا دہشت گردانہ حملہ نفرت انگیز ہے جس کا مقصد دیگر یورپی ممالک کے بعد جرمنی میں بھی خوف و ہراس پھیلانا ہے۔‘‘ اولانڈ نے کہا ہے کہ جرمنی تمام تر دہشت گردی کی مزاحمت کرے گا۔ اُن کے بقول ’’جرمنی فرانس کی دوستی اور تعاون پر اعتماد کرسکتا ہے۔‘‘ فرانسیسی صدر نے کہا کہ وہ ہفتے کی صُبح اس سلسلے میں جرمن چانسلر میرکل سے گفتگو کریں گے۔

DW.COM