1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

میونخ اولمپکس حملہ: ہلاک ہونے والے یہودی کھلاڑیوں کی یادگار

اسرائیلی صدر نے ان اسرائیلی کھلاڑیوں کی ایک یادگار کا افتتاح کر دیا ہے، جو میونخ اولمپکس کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ جرمنی میں ستمبر سن 1972ء کے دوران ایک بڑے حملے نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔

اسرائیلی صدر رووین رولین نے آج ان اولمپک کھلاڑیوں کی ایک یادگار کا افتتاح کر دیا، جو 1972ء میں جرمنی میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے دوران ہونے والے ایک مسلح حملے میں مارے گئے تھے۔

اس موقع پر اسرائیلی صدر کا کہنا تھا، ’’ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار اور اسرائیل تقریباﹰ نصف صدی سے اس لمحے کے انتظار میں تھے۔ پینتالیس برس بعد کوئی اسرائیلی وفد اس جگہ پر دوبارہ آیا ہے۔ میونخ اولمپکس خونی اولمپکس میں تبدیل ہو گئے تھے۔‘‘

Trauer Olympiade München 1972 Flagge im Stadion (AP)

اس حملے میں اولمپکس میں حصہ لینے والے11 اسرائیلی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک جرمن پولیس اہلکار بھی مارا گیا تھا

اس حملے میں اولمپکس میں حصہ لینے والے11 اسرائیلی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک جرمن پولیس اہلکار بھی مارا گیا تھا۔ جو کھلاڑی زندہ بچے تھے، وہ آج بھی اس واقعے کو بھلا نہیں سکے۔ اس کارروائی کے دوران پانچوں فلسطینی حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

میونخ اولمپکس حملوں کا ماسٹر مائنڈ چل بسا

میونخ اولمپکس کے دوران حملہ: ’سیاہ ستمبر‘ کے چالیس برس

جرمنی میں تعمیر کی جانے والی اس یادگار کے افتتاح کے موقع پر جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر بھی اسرائیلی صدر کے ساتھ میونخ میں موجود تھے۔ ان کے علاوہ اس تقریب میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ اور جرمن صوبے باویریا کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے اسرائیلی کھلاڑیوں کے رشتہ داروں نے ایک طویل عرصے سے جرمن حکومت سے یہ مطالبہ کر رکھا تھا کہ اس حوالے سے کوئی یادگار تعمیر کی جائے۔

جرمن صدر کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یادگار کی تعمیر میں تاخیر سے کام لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اولمپکس فلسطینی دہشت گردوں کے لیے اور ان کی اسرائیل سے بے حد نفرت کے لیے ایک اسٹیج بن گیا تھا۔ دوبارہ ایسا کبھی بھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘

عشروں پہلے میونخ میں یہ حملہ دنیا نے ٹیلی وژن پر براہ راست دیکھ تھ اور بین الاقوامی حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے مختلف فلسطینی عہدے داروں کو قتل کرایا، جن کے بارے میں اسرائیلی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ میونخ کے حملے میں ملوث تھے۔

یہ حملہ ’دا بلیک ستمبر آرگنائزیشن‘ نامی ایک فلسطینی عسکری گروہ نے کیا تھا۔ اس تنظیم کے عسکریت پسندوں نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بناتے ہوئے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اسرائیلی صدر اپنے اس دورے کے دوران کل جمعرات سات ستمبر کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے بھی ملاقات کریں گے۔

DW.COM