1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مینگورہ کے گلی کوچوں میں لڑائی

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مینگورہ شہر کے گلی کوچوں میں لڑائی جاری ہے جبکہ فوج نے مٹہ اور پیوچار کے علاقوں کو ملانے والے وینائے پل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

default

وادیء سوات میں سرگرم عمل دستے

ہفتے کے روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ فوج نے پہاڑوں سے مینگورہ کو پہنچنے والے رسد کے تمام راستے بند کر دئے ہیں اور شدت پسندوں کو اس علاقے سے نکلنے نہیں دیا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ اب تک کی لڑائی میں گیارہ سو شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت 29 جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اِدھر بعض تجزیہ نگاروں نے بڑی تعداد میں مینگورہ میں عام لوگوں کی موجودگی میں جنگ چھڑنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو اس آپریشن میں انتہائی احتیاط اور سرعت سے کام لینا ہو گا۔ اِس بارے میں آریانہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر خادم حسین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا :”طالبان قوتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ چار لاکھ کے قریب لوگ ابھی تک وہاں پر پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ مینگورہ اور کبل گنجان آباد علاقے ہیں میرے خیال میں فوج کو ان علاقوں میں تیر بہدف اور بہت جلدی آپریشن کرنا ہوگا۔“

دوسری طرف اسی نوعیت کے تحفظات پر مبنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کہتے ہیں:”کیا ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے کہ جہاں پر ہم آپریشن کر رہے ہیں، وہاں پر ہونے والے نقصانات کا نہ صرف اس علاقے پر اثر ہوگا بلکہ ہمارے لئے عوامی تعاون ختم ہو جائے گا؟ اس لئے ہمیں اس کی سب سے زیادہ پرواہ ہونی چاہئے۔ اور میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ آپریشن سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ میں آپ کو یہ گارنٹی بھی دیتا ہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کم سے کم نقصان ہو لیکن اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ صفر لیول نقصان بھی نہ ہو تو یہ جنگ ہے کوئی عام حالات نہیں ہیں، جس میں آپریشن ہو رہا ہے۔“

تجزیہ نگاروں کے خیال میں ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ پر فوج کا جلد از جلد کنٹرول فیصلہ کن ثابت ہوگا کیونکہ دفاعی لحاظ سے انتہائی اہم اس شہر پر قبضے کے بعد فوج کے لئے شدت پسندوں کو شکست دینا آسان ہو جائے گا۔