1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مینگورہ آپریشن، 14مذید عسکریت پسند گرفتار : پاکستانی فوج

سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں 29 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے اور 14کوگرفتار کرنے کادعویٰ کیا ہےجبکہ مختلف جھڑپوں کے دوردان سیکورٹی فورسز کے 6 اہلکار ہلاک اور 11زخمی ہوئے ہیں۔

default

فوج کے مطابق مینگورہ شہر کے بڑے علاقے کو عسکتریت پسندوں سے خالی کرا لیا گیا ہے

پاکستانی فوج نے کبل کے راستے میں 3 دیہاتوں کو عسکریت پسندوں سے خالی کرا لیا ہے جبکہ ضلع بونیر کےایک بڑے علاقے کو کلیئر قرار دے دیاگیاہے سیکیورٹی فورسز نے فتح پورہ، خوازہ خیلہ، شل پلم اورپیوچار میں کارروائیاں کی ہیں جبکہ منوڈھیری میں عسکریت پسندوں کا اہم مرکز تباہ کردیا گیا ہے اسی طرح پیوچار میں بارود اوراسلحہ کے فیکٹری کو بھی تباہ کردیا ہےسوات کے علاوہ بونیر میں بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بونیر کے 90 فیصد علاقے سے عسکریت پسند وں کونکال دیاگیاہے تاہم پیر بابا میں فوج کو ابھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی جنگ مینگورہ کے گلی کوچوں میں جاری ہے جہاں نصف سے زیادہ شہرپر فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اُدھر ضلع دیرکے مختلف علاقوں میں بدستور کرفیو ہے جبکہ نقل مکانی کاسلسلہ بھی جاری ہے سرکاری طورپر اب تک 23لاکھ 50ہزار سے زائد لوگوں کو رجسٹرڈ کیاگیاہے حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کی چھان بین کرنے کےلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ عسکریت پسند نقل مکانی کی آڑ میں ریلیف کیمپوں میں داخل نہ ہوسکیں۔

وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا ہے: ’’عسکریت پسندوں کاکیمپوں میں داخلہ روکنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائیں گے انٹلیجنس اداروں کو ایسے مشکوک افراد پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ہمیں بھی پتہ ہے کہ آپریشن میں تیزی آنے کے ساتھ یہ لوگ حلیہ بدل کر کیمپوں میں گھس سکتے ہیں جس کے لئے حکومت نے خصوصی فورسز کو سادہ کپڑوں تعینات کررکھا ہے جہاں متاثرین کے لئے قیام اور طعام کا بندوبست حکومت کی ذمہ داری ہے وہاں ان کی جان کی حفاظت کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہیں اور ہم اس سے ہرگز غافل نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں 69 ہزار حاملہ خواتین بھی شامل ہیں ان خواتین کے لئے مردان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں خصوصی وارڈ بنایاگیا ہے جہاں گزشتہ 21دنوں میں 122بچوں نے جنم لیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے عسکریت پسند دیگر علاقوں میں متحرک ہورہے ہیں صوبہ سرحد کے پرامن ضلع ہری پور میں عسکریت پسندوں نے اپنے غیر ملکی خواتین ساتھیوں کوچھڑانے کے لئے پولیس اسٹیشن پرحملہ کیا اس دوران جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار اور عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ پولیس نے گرفتار غیر ملکی خواتین کو نامعلوم مقام پرمنتقل کردیاہے۔ ہری پور ہزارہ ڈویژن کا اہم صنعتی شہر ہے جہاں پاکستان کے دو بڑے ڈیم تربیلا اورخان پور کے علاوہ کئی بڑے صنعتیں ہیں۔ ہری پور کے شمال مغرب میں ایبٹ آباد، شمال میں مانسہرہ، جنوب مغرب میں ضلع اٹک اور جنوبی مشرق میں دارالحکومت اسلام آباد اورراولپنڈی واقع ہیں۔

مالاکنڈ ڈویژن کے آپریشن کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پاک افغان سرحد پر واقع جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی ہے جس میں 6 افرادہلاک جبکہ 14زخمی ہوئے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب علاقے میں موجودسیکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ طالبان کمانڈر بیعت اللہ محسود کے اہم ساتھی عبداللہ غازی کے گرفتاری کے ردعمل میں کیاگیا۔