1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میناروں والی مسجدوں کی تعمیر پر پابندی غلط ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی سربراہ ناوی پیلے نے سوئٹزرلینڈ میں میناروں والی مساجد کی تعمیر پر پابندی کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

default

ان کے مطابق اس قسم کے اقدامات متعدد ممالک میں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کے رجحانات میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پیلے نے اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں گزشتہ اتوار کو دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی سوئس پیپلز پارٹی SVP کے ایماء پر میناروں والی

Antirassismus Konferenz in Genf

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوی پیلے

مسجدوں کی تعمیر کے مسئلے پر جو ریفرنڈم کرایا گیا وہ غیر ملکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا کھلا ثبوت ہے۔ اس ریفرنڈم میں سوئٹزرلینڈ کے 57 فیصد عوام نے میناروں والی مساجد پر پابندی کے حق میں ووٹ دیے۔

ناوی پیلے نے کہا کہ اس فیصلے سے اس مغربی ملک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ میناروں والی مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانا ایک مذہب اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ وہ حالیہ ریفرنڈم کے ایک جمہوری فیصلے کے طور پر مذمت نہیں کرنا چاہتیں تاہم ان کے بقول ’ انہیں غیر ملکیوں کی مخالفت اور دوسری قوموں کی ثقافت اور مذہب کے بارے میں پائی جانے والی عدم رواداری پر سخت تشویش ہے اور وہ اس رویے کی سخت مذمت کرتی ہیں۔'

Schweiz Minarett 2009

سوئٹزرلینڈ میں میناروں والی مسجدوں کی تعداد چار ہے

سوئٹزرلینڈ میں تقریباً چارلاکھ مسلمان آباد ہیں۔ لیکن وہاں مسجدوں کے طور پر تعمیر کی گئی مسلمانوں کی باقاعدہ میناروں والی عبادت گاہوں کی تعداد صرف چار ہے ۔ حالیہ ریفرنڈم اور اس کے نتائج سامنے آنے کے بعد یورپ کے مختلف ممالک کے علاوہ مسلم دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ خود سوئٹزرلینڈ کے کئی شہروں میں ہزاروں مسلمانوں نے سڑکوں پر نکل کر اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ خاص طور پر جینیوا اور لاؤزانے میں میناروں والی مساجد کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے رد عمل میں بہت بڑے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ہوا۔ دوسری جانب یورپ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ سوئس حکومت اور مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے اگرچہ میناروں والی مساجد پر پابندی کی مخالفت کی تھی تاہم اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے اس ریفرنڈم کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔

ناوی پیلے نے سوئٹزرلینڈ میں سیاسی مہم چلانے والے متعدد کارکنوں کی طرف سے اس قسم کے پوسٹرز اور بینرز کے استعمال کو بھی گہری تشویش کا باعث قرار دیا جن پردرج الفاظ کے ذریعے بالعموم غیر ملکیوں اور بالخصوص مذہبی اقلیتوں کو عقیدے، رنگ اور نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پیلے کے مطابق اس قسم کے رجحانات معاشرے سے ہم آہنگی اور بھائی چارے کو ختم کرنے اور عدم رواداری کو فروغ دینے کا باعث بنیں گے اور یہ کسی بھی ملک کے لئے اچھا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں سے یورپی قوموں کے اندر اس قسم کے جذبات اور رجحانات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM