1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میناروں والی مسجدوں کی تعمیر، سوئٹزر لینڈ میں ریفرینڈم

سوئٹزرلینڈ میں ان دنوں مسلمانوں کی میناروں والی مسجدوں کی تعمیر سے متعلق ایک ایسی ملک گیر بحث جاری ہے، جس کا نقطہ عروج اس مہینے کے آخر میں ہونے والا ایک ریفرینڈیم ہو گا۔

default

اتوار کے روز ہونے والا یہ ریفرینڈیم اگر منظور ہو گیا، تو سوئس آئین کی رو سے ملک میں اسلامی تعمیرات کی پہچان والی، میناروں والی مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگا دی جائے گی۔

آج کل سوئٹزرلینڈ مسلمانوں کی میناروں والی مسجدوں کی تعمیر سے متعلق ایک قومی بحث کی لپیٹ میں ہے۔ یہ موضوع وہاں جاری ایک بڑے سماجی مباحثے کی علامت بن چکا ہے۔ کیا ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع مغربی یورپ کے اس ملک میں آئندہ مسلمانوں کو اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر کے دوران میناروں والی مسجدوں کی تعمیر کی اجازت ہو گی، اس کا فیصلہ وہاں اس مہینے کے آخر میں ہونے والے عوامی ریفرینڈیم میں ہو جائے گا۔

سوئٹزرلینڈ میں جاری اس سماجی بحث اور سیاسی تنازعے کے باعث وہاں آباد اُن مسلمانوں کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے، جن کی پورے ملک میں کُل تعداد قریب چار لاکھ بنتی ہے۔ ان مسلمانوں میں سے زیادہ تر تُرک نسل کے ہیں یا پھر بلقان کے علاقے کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن۔ اتوار کے ریفرینڈیم سے پہلے سوئٹزرلینڈ میں ان دنوں تقریبا سبھی شہروں میں دیواروں پر ایسے پوسٹر دکھائی دیتے ہیں، جن میں ملک میں مسلمانوں کی میناروں والی مسجدوں کی تعمیر کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس یورپی ملک میں رہنے والے مقامی اور تارکین وطن مسلمان اس بات پر بہت ناخوش ہیں، کہ انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر کے حوالے سے مکمل مذہبی آزادی کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت جن مسجدوں میں نماز ادا کرتی ہے، وہ باقاعدہ مسجدوں کے طور پر تعمیر کی گئی عبادت گاہیں نہیں ہوتیں، بلکہ ایسے بڑے ہال یا سماجی مراکز ہوتے ہیں، جنہیں کچھ تعمیراتی رد و بدل کے بعد مسجدوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرمنی کے ہمسایہ اس ملک میں باقاعدہ مساجد کی صورت میں مسلم عبادت گاہیں بہت کم ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایسی مساجد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

پورے سوئٹزرلینڈ میں صرف چار مسجدیں ایسی ہیں، جن کے مسلم ریاستوں میں عام مسجدوں کی طرح مینار بھی ہیں، حالانکہ سوئٹزرلینڈ میں اسلام عیسائیت کے بعد دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس پر بھی مقامی مسلمان آبادی کے لئے ایک تکلیف دہ احساس یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں وہاں مسلمانوں کی نمائندہ سماجی اور مذہبی تنظیموں نے نئی مساجد کی تعمیر کی اجازت حاصل کرنے کے لئے جتنی بھی درخواستیں دیں، وہ سب مسترد کر دی گئیں۔

موجودہ سوئس پارلیمان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھنے والی، دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی SVP کے رہنماؤں کا کہنا ہے ملک میں میناروں والی مسجدوں کی تعمیر پر پابندی ہونی چاہیے۔ ان رہنماؤں کے بقول اگر ملک میں میناروں والی مزید مسجدیں تعمیر کرنے کی اجازت دے دی گئی، تو نتیجہ اکثریتی طور پر مسیحی آبادی والے یورپ کے اس ملک میں اسلامائزیشن کی صورت میں نکلے گا۔

رپورٹ : عصمت جبین

ادارت : مقبول ملک