1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میمو گیٹ اسکینڈل، فوجی اور سول مؤقف میں تضاد

سپریم کورٹ میں متنازعہ میمو گیٹ کے حوالے سے جمع کرائے گئے جوابات میں فوجی اور سول حکام کے مؤقف میں تضاد عیاں ہے۔ فوجی حکام عدالت سے تحقیقات کے لیے کہہ رہے ہیں جبکہ سویلین حکومت چاہتی ہے کہ معاملے کی شنوائی نہ ہو۔

default

سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو میاں نواز شریف کی درخواست سمیت مختلف درخواستوں پر میمو گیٹ سکینڈل میں 10 فریقین کو اپنا جواب داخل کرانے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ تاہم یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے تک 10میں سے صرف 6 فریقوں نے اپنے جوابات عدالت میں داخل کرائے۔ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے اس معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ اور خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت ان آئینی درخواستوں کو مسترد کر دے کیونکہ وفاقی حکومت پہلے ہی اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کر چکی ہے۔ ادھر صدر آصف علی زرداری نے عدالت کی طرف سے نوٹس بھجوائے جانے کے باوجود مقررہ وقت تک اپنا جواب داخل نہیں کرایا۔

ادھر اپنی جماعت کے مؤقف کے برعکس مسلم لیگ (ن( کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کا کہنا ہے کہ کچھ قوتیں میمو کے معاملے کو پارلیمان کے خاتمے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میمو کو بطور تارپیڈو استعمال کیا جا رہا ہے کہ ساری اس بساط کو لپیٹا جائے۔ اس سے بڑے سانحات پاکستان کی تاریخ میں ہوئے وہاں تو ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اس سے کون سی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا۔ لوگ تو پاکستان کے نقشے بناتے ہیں کہ بلوچستان کو وہاں جانا

Pakistan Präsident Porträt Asif Ali Zardari

صدر آصف علی زرداری نے عدالت کی طرف سے نوٹس بھجوائے جانے کے باوجود مقررہ وقت تک اپنا جواب داخل نہیں کرایا

چاہیے تو اس سے کیا ہوتا ہے کوئی پاکستان ٹوٹ جاتا ہے اس سے ؟ ‘‘

اس دوران قانون حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کہ صدر زرداری کی جانب سے عدالت میں جواب داخل نہ کرانے کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمن نے کہا ’’صدر کی طرف سے جو جواب داخل نہیں کرایا گیا یہ اتنا سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا جو مقدمہ تھا، پی سی او سے متعلق اس میں جنرل پرویز مشرف کو نوٹس کیا گیا وہ نہیں پیش ہوئے نہ ان کی طرف سے کوئی جواب داخل کرایا گیا نہ کوئی وکیل آیا۔ تو یہ ایسے ہی ہے کہ اگر جواب دینا چاہیے تو ٹھیک ہے ورنہ جو مواد یا شہادت سامنے آئے گی سپریم کورٹ اس پر کارروائی کر سکتی ہے۔‘‘

تاہم سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرم چوہدری کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے جواب داخل نہ کرنا عدالت کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہاں پر انہوں نے وضاحت کرنی ہے کہ میمو گیٹ جو بنیادی طور پر ریاست کی ہیئت ، سلامتی اور خود مختاری اور اس کے تمام معاملات سے متعلق ہے اور اس کا کیا تعین ہوتا ہے کہ کیا ایسی کوئی سازش ہوئی تو یہاں تو ان کی موجودگی اور جواب لازمی ہو جاتا ہے۔ صدر کا اس سے نکلنا کسی طور ممکن نہیں۔ مشرف کے مقدمے میں تو رسمی طور پر نوٹس دیا گیا تھا تا کہ کل وہ یہ نہ کہیں کہ ہمیں کچھ کہا نہیں گیا تو میرے خیال میں صورتحال اور ان کے نتائج مختلف ہیں۔‘‘

دریں اثناء سپریم کور ٹ میں میمو گیٹ سکینڈل کی آئندہ سماعت 19 دسمبر پیر کے روز ہوگی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM