1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میمو گیٹ اسکینڈل‘ سے پاکستانی اختلافات آشکار

روئٹرز کے مطابق پاکستان میں فوج کے خلاف امریکی مدد طلب کرنے کے حوالے سے خفیہ یاداشت نے کمزور جمہوری حکومت اور طاقتور عسکری رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

default

پاکستانی صدر آصف زرداری

اس اسکینڈل کے نتیجے میں امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی اور صدر آصف زرداری کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

حسین حقانی نے اِن دعووں کو مسترد کیا ہے کہ امریکی فوج کے (سابق) سربراہ کو یاداشت پہنچانے میں ان کا کوئی ہاتھ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد میں ایسی ’نئی سکیورٹی ٹیم’ لانے کے لیے مدد طلب کی گئی،جس کا امریکہ کے ساتھ رویہ دوستانہ ہو۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ’میموگیٹ‘ اسکینڈل پہلے سے مشکلات کی شکار حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں اس اسکینڈل میں صدر زرداری کے ملوث ہونے کی بات ثابت ہوئی،تو وہ خود خطرے میں ہو سکتے ہیں۔ حقانی کا کہنا ہے: ’’میں ہدف نہیں ہوں، صدر زرداری اور پاکستان کی جمہوریت نشانے پر ہے۔‘‘

حسین حقانی اس تنازعے پر استعفے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگرچہ پاکستانی صدر کو منتخب حکومت لے کر آئی ہے لیکن پھر بھی فوج کو وسیع تر سیاسی اور اقتصادی اختیارات حاصل ہیں۔ فوج چھ دہائیوں پر محیط پاکستان کی تاریخ میں براہ راست یا بالواسطہ زیادہ تر عرصہ اقتدار میں رہی ہے اور منتخب رہنماؤں کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کرتی ہے۔

یہ میمو سچ ثابت ہوا تو یہ ان الزامات کو ہوا دے گا کہ حکومت ملک اور فوج کے مفادات کے خلاف امریکہ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

Pakistan USA Botschafter Husain Haqqani

واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ امریکہ پاکستان کو بھاری امداد دینے کے باوجود وہاں انتہائی غیرمقبول ہے۔

غیردستخط شدہ یہ میمو رواں برس مئی میں پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے خفیہ آپریشن میں ہلاکت کے فوری بعد بھیجا گیا تھا۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ’دا نیوز‘ اور ’فارن پالیسی‘ ویب سائٹ پر جمعے کو اس میمو کا متن شائع کیا گیا۔ امریکی فوج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے ترجمان نے پہلے اس کی تردید کی،تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ میمو مو‌صول ہوا تھا لیکن قابلِ بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس