1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میمو گیٹ اسکینڈل، سیاسی پیچیدگیاں اور خطرات

میمو گیٹ اسکینڈل سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے نتیجے میں زرداری انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور پاکستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

default

حسین حقانی اور آصف علی زرداری

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں تحریر کیا ہے کہ اس اسکینڈل کے نتیجے میں پاکستان کی کمزور سیاسی حکومت اور طاقتور فوجی قیادت کے مابین ایک تاریخی تصادم کی صورتحال پیدا ہونے کے شدید امکانات موجود ہیں۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے رواں ہفتے اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اس میمو اسکینڈل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس تناظر میں جہاں پاکستان کی سیاسی حکومت کے لیے پریشانیاں پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں وہیں پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین تعلقات میں بھی کچھاؤ واضح ہوتا جا رہا ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء سے قبل امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لاتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے لیے پاکستانی حمایت حاصل کر سکے۔ لیکن اس نئے واقعے نے واشنگٹن حکومت کے لیے بھی مشکل کھڑی کر دی ہے۔

Punjab Shahbaz Sharif trifft Hillary Rodham Clinton

ایک اعلی امریکی اہلکار کے بقول 1999ء میں شہاز شریف نے بھی امریکہ آکر ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امریکی مدد طلب کی تھی

واشنگٹن میں ہیرٹیج فاؤنڈیشن نامی تھنک ٹینک سے وابستہ لیزا کرٹس کہتی ہیں، ’میمو گیٹ اسکینڈل لازمی طور پر امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرے گا‘۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اےکے لیے کام کرچکنے والی سابق تجزیہ نگار لیزا کرٹس کے بقول اس پورے اسکینڈل کے پیچھے ایسی طاقتیں کارفرما ہیں، جو پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔

میمو گیٹ اسکینڈل نامی یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں کھڑا ہوا ہے، جب امریکی فوجی حکام چھبیس نومبر کو پاکستانی قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نیٹو کی فضائی کارروائی کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔ اس کارروائی میں پاکستان کے دو درجن فوجی مارے گئے تھے اور پاکستانی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ اسی باعث واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔

امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ میموگیٹ اسکینڈل کے بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، سیاسی ناقدین کے بقول شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس تنازعے میں مبینہ طور پر ملوث امریکی اہلکاروں کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بقول میمو گیٹ اسکینڈل پاکستان کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے۔ بدھ کو پینٹا گون کے ترجمان جارج لِٹل نے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت پرعزم ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں اسلام آباد حکومت کے ساتھ مل کر کوئی حل تلاش کر لے گی، ’یہ کام آسان نہیں ہوگا تاہم محنت اور ایمانداری کے ساتھ ہم اس معاملے کو حل کر لیں گے‘۔

Haqqani Netzwerk Terrorismus Pakistan USA Demonstration Flash-Galerie

سال دو ہزار گیارہ کے دوران پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے

واشنگٹن میں ایسے شکوک بھی پائے جاتے ہیں کہ کیا پاکستان کی کمزور سیاسی حکومت اس معاملے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کو برداشت کر سکے گی اور کیا پاکستان کی عدالت عظمیٰ اس کیس کی سماعت کے دوران شفاف اور آزادانہ کارروائی کر سکے گی یا نہیں۔ اٹلانٹک کونسل سے وابستہ پاکستانی اسکالر شجاع نواز کے بقول آصف علی زرداری کے سیاسی مخالف نواز شریف کی طرف سے دائر کیے گئے اس کیس کے سیاسی محرکات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

سی آئی اے اور وائٹ ہاؤس کے سابق اعلیٰ اہلکار بروس ریڈل کہتے ہیں کہ ایک دہائی قبل 1999ء میں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے بھی امریکہ کے دورے پر آ کر اس وقت کی سیاسی حکومت کو لاحق خطرات سے خبردار کرتے ہوئے ممکنہ فوجی انقلاب کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بروس ریڈل کہتے ہیں کہ اس وقت شہباز شریف نے بھی ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امریکی مدد طلب کی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس