1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میلٹ ڈاؤن‘ ہوا ہے: حکومتِ جاپان کا اعتراف

جاپان میں ہولناک زلزلے اور سونامی کے دو ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ شدید متاثرہ فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر میں ’میلٹ ڈاؤن‘ وقوع پذیر ہوا ہے اور فیول راڈز جزوی طور پر پگھل گئے ہیں۔

default

فوکوشیما جوہری پلانٹ

آج پیر کو ٹوکیو حکومت کے سرکاری ترجمان یوکیو ایڈانو نے کہا کہ ایک ری ایکٹر میں پانی کے اندر پائی جانے والی بڑے پیمانے پر تابکاری کی وجہ یہ ہے کہ فیول راڈز جزوی طور پر پگھل گئے ہیں اور انتہائی آلودہ مادے اُس پانی میں مل گئے ہیں، جو ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جاپانی حکومت کے سرکاری ترجمان کے بیان سے یہ عندیہ نہیں ملتا کہ ری ایکٹر کا بیرونی خول بھی متاثر ہوا ہے۔ جاپانی حکومت کے مطابق فیول راڈز کا یہ پگھلاؤ یا ’میلٹ ڈاؤن‘ غالباً 11 مارچ کے واقعات کے فوراً بعد ہی رونما ہو گیا تھا۔

Japan Erdbeben Tsunami Nuklear Krise NO FLASH

فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ذریعے سمندری پانی ری ایکٹر پر پھنک کر اُسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

ایٹمی خطرے پر قابو پانے کی جنگ میں جلد کامیابی حاصل ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ گزشتہ وِیک اَینڈ پر اِس بجلی گھر پر جاری کام حد سے کہیں زیادہ تابکاری کے سبب کئی مرتبہ مکمل طور پر منقطع کیا جانا پڑا۔ دریں اثناء حکومت نے فوکوشیما بجلی گھر کی منتظم کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور Tepco کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ٹیپکو نے گزشتہ ہفتے کی شام کہا تھا کہ اُس کی جانب سے تابکاری کے حوالے سے غلط اور کہیں زیادہ بلند اعداد و شمار بتائے گئے تھے۔ جہاں تک اِس تباہی کو روکنے کی کوششوں کا تعلق ہے، یہ کمپنی بظاہر زیادہ سے زیادہ بے بس نظر آ رہی ہے۔ ٹیپکو کے نائب صدر زکائے مُوٹو نے کہا، افسوس کہ ابھی ایسا کوئی ٹھوس ٹائم ٹیبل نہیں ہے، جس کی روشنی میں یہ کہا جا سکے کہ کتنے مہینوں یا برسوں میں اِس بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ ٹوکیو میں اِس کمپنی کے حصص کی قمیتوں میں تقریباً اٹھارہ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

Japan Regierungssprecher Yukio Edano

ٹوکیو حکومت کے سرکاری ترجمان یوکیو ایڈانو

بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اصل صورتِ حال اُس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، جتنی کہ بتائی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے وابستہ جوہری امور کے ماہر نجم الدین مشکاتی کے خیال میں جاپان اکیلے اِس بحران پر قابو پانے کے قابل نہیں ہے: ’’جتنا کچھ کوئی ایک قوم اکیلے کر سکتی ہے، یہ اُس سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ مشکاتی کے خیال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے: ’’میرے خیال میں لیبیا کی فضائی حدود میں نو فلائی زون کے مقابلے میں یہ بات کہیں زیادہ اہم ہے۔‘‘

جاپان میں حالیہ زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں اب تک 27 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہیں۔ فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے متعدد ملازم تابکاری سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اِس بجلی گھر سے 240 کلومیٹر دور واقع دارالحکومت ٹوکیو میں بھی پینے کے پانی میں تابکاری کے حد سے زیادہ اثرات دیکھے گئے ہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب جاپان کے شمال مشرق میں 6.5 قوت کا ایک اور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کے بعد سونامی کی ایک وارننگ جاری کی گئی، جو بعد ازاں واپس لے لی گئی۔ ابھی کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ گیارہ مارچ کا 9.0 قوت کا زلزلہ جاپانی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً دَس میٹر بلند سونامی لہریں پیدا ہوئیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس