1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

میشاعیل شوماخر فٹنس کی جدوجہد میں

فارمولا ون موٹر ریسنگ میں سات مرتبہ عالمی چیمپئین بننے والے جرمن ڈرائیور مشاعیل شوماخر نے فارمولا ون سرکٹ پر اپنی واپسی کے اعلان کے بعد باقاعدہ ٹریننگ شروع کردی ہے۔

default

شوماخر اور ان کی ترجمان

فی الحال ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شوماخر کو کسی حد تک فٹنس کے مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 23 اگست کو سپین میں ہونے والے یورپی گراں پری مقابلے کی تیاری کے لئے ٹریننگ سیشن کے دوران شوماخر کو ڈرائیونگ کے باعث گردن کے عضلات میں شدید کھچاؤ کا سامنا رہا۔ لیکن فیلیپے ماسا کے ہنگری میں بوڈاپیسٹ کے سرکٹ پر شدید حادثے کے بعد ان کی جگہ فیراری ٹیم کی گاڑی چلانے کا فیصلہ کرنے والے شوماخر نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یورپی گراں پری مقابلے تک وہ مسلسل پریکٹس کے ساتھ ڈرائیونگ کے باعث پٹھوں میں کچھاؤ کے مسئلے پر پوری طرح قابو پا لیں گے۔

شوماخر کی ترجمان زابینے کیہم کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ بات کسی حد تک غیر یقینی ہے کہ میشاعیل شوماخر یورپی گراں میں شرکت کے لئے فٹ ہو جائیں گے۔ یہ گراں پری ہسپانوی شہر ویلنسیا میں ہو گی۔ باقاعدہ طور پر ریٹائر ہوجانے والے جرمن ڈرائیور نے فارمولا ون مقابلوں میں اپنی واپسی کے اعلان کے وقت کہا تھا کہ وہ فیراری ٹیم کی گاڑی چلاتے ہوئے 23 اگست کی ریس میں شریک ہوں گے۔

BdT Formel 1 Michael Schumacher in Budapest

بوڈا پیسٹ میں فیلیپے ماسا کی عیادت کے بعد شوماخر ہسپتال سے رخصت ہوتے ہوئے

شو ما خر نے پچیس جولائی کو بوڈا پیسٹ میں فارمولا ون کے ہنگیریئن گراں پری مقابلے کی کوالیفائنگ کے دوران ایک حادثے میں زخمی ہو جانے والے برزایل کے فیلیپے ماسا کے متبادل کے طور پر موجودہ سیزن کے باقی مقابلوں میں سے چند میں اپنی شرکت کا اعلان کیا تھا۔ فیلیپے ماسا کو سر پر چوٹیں آئی تھیں۔ بوڈاپیسٹ اور پھر ساؤ پاؤلو میں مسلسل طبی معائنوں کے بعد ڈاکٹر انہیں اب گھر پر آرام کی ہدایت دے چکے ہیں۔

دو دن پہلے تک ان کی ایک آنکھ کے گرد سوجن موجود تھی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس سال کے بقیہ فارمولا ون مقابلوں میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ مکمل صحت یابی کے بعد بھی ماسا کو بھرپور لیکن فزیو تھیراپی کے ماہرین کی نگرانی میں مسلسل ٹریننگ سیشن درکار ہوں گے۔ اس دوران ان کا بار بار طبی معائنہ بھی کیا جائے گا کیونکہ بوڈاپیسٹ کے حادثے میں ان کے سر کی ہڈی فریکچر ہو گئی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ چالیس سالہ جرمن ڈرائیور مشاعیل شوماخر کو فارمولا ون مقابلوں میں خصوصی ڈیزائن شدہ کار چلانے کے لئے ٹریننگ کے ٫کریش سیشن‘ کی ضرورت ہو گی۔فارمولا ون گاڑیوں کے خود کارگیئر سسٹم اورانتہائی تیز رفتاری کے باعث ڈرائیونگ کے دوران ہر ڈرائیور مسلسل جسمانی اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔

شوماخر تین سال پہلے کے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کو واپس لیتے ہوئے فیراری ٹیم کے اٹلی میں Mugello ٹیسٹنگ ٹریک پر ایک بار پھرٹریننگ کا آغاز کر چکے ہیں۔ اس ٹریننگ کےدوران اب تک ان کے وزن میں 2.5 کلو گرام کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ بظاہر وہ مسلسل تربیت کے عمل سے گزر رہے ہیں لیکن ان کی باقاعدہ مقابلوں میں واپسی اسی وقت ہو گی جب وہ خود کو پوری طرح فٹ محسوس کریں گے۔

Flash Wochenrückblick Bildergalerie für 31.07.2009 Schumachers Comeback

فارمولاون کی ایک ریس میں کامیابی کے بعد شوماخرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے، فائل فوٹو

تربیت کے دوران ان کے میڈیکل چیک اپ بھی جاری ہیں۔ ان میں خاص طور پر دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صرف شوماخر کے خود کو فٹ قرار دینے سے ان کو فارمولا ون مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ طبی ماہرین کا بھی ان کو پوری طرح فٹ قرار دینا ضروری ہے۔ پوری طرح فٹ ہونے کے سلسلے میں ان کی جسمانی کے ساتھ ساتھ اعصابی اور ذہنی صحت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ فارمولا ون مقابلوں میں شرکت سے قبل شوماخر کے لئے ڈاکٹری فٹنس سرٹیفیکیٹ کی ضرورت کی تصدیق ان کی ترجمان نے بھی کی ہے۔

میشاعیل شوماخر نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ وہ جہاں وزن کم کرنے میں مصروف ہیں وہاں ان کے لئے اپنے بدن کے عضلات کو بہتر صورت دینا بھی لازمی ہے۔ اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان کے تربیتی سیشن بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی تحریر میں انہوں نے اپنی گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ کا اعتراف بھی کیا ہے۔ شوماخر کو سپین میں کچھ عرصہ قبل موٹر سائیکل ریسنگ کے ایک آزمائشی مرحلے کے دوران حادثہ پیش آنے سے گردن میں چوٹ لگی تھی۔ یہ امکان بھی ہے کہ ریٹائرمنٹ سے واپسی کے بعد بھرپور ٹریننگ کے باعث ان کی گردن کا پرانا درد دوبارہ شدید ہو سکتا ہے۔

اپنے شاندار کیریئر کے دوران شوماخر سات بار فارمولا ون موٹر ریسنگ کے عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں۔ نوے کی دہائی میں ان کی مہارت کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ ریٹائر منٹ سے قبل وہ فیراری ٹیم کی گاڑی چلاتے تھے۔ وہ سات میں سے پانچ بار عالمی چیمپئن فیراری ٹیم کی گاڑی چلا کر ہی بنے تھے۔ ان دنوں وہ فیراری کی فارمولا ون ٹیم کے ایڈوائزر بھی ہیں۔