1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میزائلوں سے بھری ٹنل، ایرانی فوٹیج

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے آج بدھ کے روز ایک ایسی فوٹیج جاری کی ہے جس میں ایک زمین دوز ٹنل دکھائی گئی ہے جو میزائلوں اور میزائل لانچ کرنے والے یونٹس سے بھری ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ فوٹیج ایک ایسے وقت پر دکھائی گئی ہے جب محض تین روز قبل ہی ایران نے ایک دور مار میزائل کا تجربہ کیا ہے اور جسے امریکا سلامتی کونسل کی ایک قرار داد کی خلاف ورزی قرار دے سکتا ہے جبکہ ایک روز قبل ہی ایرانی پارلیمان نے اس جوہری معاہدے کی توثیق کی ہے جو تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 14 جولائی کو طے پایا تھا۔

ایرانی حکام کہہ چکے ہیں کہ جوہری تنازعہ اس کی ملٹری فورسز پر اثرانداز نہیں ہو گا اور خاص طور پر اس کے بیلاسٹک میزائل پروگرام پر۔ اے ایف پی کے مطابق نئے میزائل کا تجربہ اور ایک زیرزمین ٹنل کی یہ فوٹیج دراصل اس دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے جو ارکان پارلیمان کی طرف سے ڈالا جا رہا ہے کہ اس بات کو ثابت کیا جائے کہ جوہری معاہدے سے ملکی فوج کمزور نہیں ہو گی۔

ایرانی ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں جو ٹنل دکھائی گئی ہے اور سینکڑوں میٹر طویل جبکہ قریب 10 میٹر بلند ہے اور یہ ٹنل میزائلوں اور دیگر ہارڈویئر سے بھری ہوئی ہے۔ ایران کی اسلامک ریوولوشنری گارڈز کے ایرواسپیس ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر عامر علی حاجی زادہ کے مطابق ملک بھر میں ایسی بہت سے ٹنلز موجود ہیں۔ ریوولوشنری گارڈز کی ویب سائٹ کے مطابق حاجی زادہ کا کہنا ہے، ’’اسلامک ری پبلک کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بلند پہاڑوں کے نیچے اور ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں میں موجود ہیں۔‘‘

تین روز قبل ہی ایران نے ایک دور مار میزائل کا تجربہ کیا ہے

تین روز قبل ہی ایران نے ایک دور مار میزائل کا تجربہ کیا ہے

کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم کمانڈر ان چیف آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے حکم دیے جانے کی صورت میں یہ میزائل ایران بھر کے مختلف حصوں سے چھوڑے جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج دراصل میزائل بیسز کی ایک مثال ہے۔ حاجی زادہ کے مطابق لیکویڈ اور سولڈ فیول پر مبنی میزائلوں کی نئی اور بہتر جنریشن اگلے برس سے پرانے میزائلوں کو تبدیل کرنا شروع کر دے گی۔

اے ایف پی کے مطابق کمانڈر کی جانب سے ان میزائلوں کے بارے میں آگاہ کرنے کا مقصد مغربی طاقتوں اور خاص طور پر امریکی بیانات کا جواب دینا ہے، جس کی طرف سے جوہری معاہدے کے باوجود کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ملٹری آپریشن سمیت تمام ممکنات کھلے ہیں۔ حاجی زادہ کے مطابق ایران کوئی جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن ’’اگر دشمنوں نے کوئی غلطی کی تو میزائل بیسز اس طرح میزائل اگلیں گی جیسا زمین کی گہرائی سے آتش فشاں پہاڑ پھوٹتا ہے۔‘‘