میر واعظ عمر فاروق گرفتار، ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میر واعظ عمر فاروق گرفتار، ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی

بھارت کے زیر انتظام میں کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبونہ مفتی نے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد گزشتہ پچاس روز سے جاری کرفیو کا دفاع کیا ہے۔

کشمیر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں سری نگر کے مضافات میں جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ سری نگر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کو ایک پرامن مظاہرے میں شرکت کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں مقامی پولیس نے بتایا کہ انہیں ہائی سکیورٹی زون چشمہ شاہی میں رکھا گیا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے، جب کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 تک پہنچ گئی ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والی تازہ جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا ہے۔

ہفتے کے روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا گزشتہ پچاس روز سے جاری کرفیو کا دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’کرفیو کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اگر ہم کرفیو نافذ نہ کریں تو کیا کریں؟‘‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ہر اس شخص سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے، جو مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ان کا پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں پاکستان کو بتانا چاہتی ہوں اگر اسے کشمیریوں سے کوئی بھی ہمدردی ہے تو اسے نوجوانوں کو پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کے لیے اکسانا نہیں چاہیے اور نوجوانوں کو ہلاک ہونے سے بچانا چاہیے۔‘‘

کشمیر میں پولیس نے جمعے کے روز مزید ایک کشمیری کو احتجاج کے دوران ہلاک کر دیا تھا جبکہ ایک دوسری کشمیری کی لاش ہفتے کے روز ایک دریا سے ملی ہے۔ اسی طرح ایک پولیس کانسٹبل کو نامعلوم مسلح شخص نے اس وقت گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا، جب وہ اپنے گھر سے باہر نکل رہا تھا۔

پولیس سپرینٹنڈنٹ رئیس محمد بٹ کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس علاقے میں عسکریت پسند موجود تھے۔‘‘