1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، محمود اچکزئی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے کے پی کو افغانستان کا حصہ قرار دیے جانے اور افغان مہاجرین کو کے پی میں آ کر رہنے کی دعوت نے پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔

اس بیان پر سیاست دانوں نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر برائے قبائلی علاقہ جات جنرل ریٹائرڈ قادر بلوچ نے افغان مہاجرین کے مسئلے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ انہیں چھ مہینے میں واپس جانا پڑے گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ کے پی کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ ان کے صوبے کے لوگوں نے ایک رائے شماری کے ذریعے پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نوازشریف نے بدھ 29 جون کو افغان مہاجرین کے ملک میں قیام میں اکتیس دسمبر دوہزار سولہ تک توسیع کر دی تھی۔


پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس متنازعہ بیان پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا، ’’ہماری پارٹی اور ہمارے قائد کا افغانستان کے مسئلے، دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان پر ایک اصولی مؤقف ہے، جو ہماری اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اور ہمیں وہاں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے پہلے افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش کی، پھر ہم نے اسٹریٹیجک ڈیبتھ کی پالیسی اپنائی اور پھر ہم نے افغانستان میں پاکستان نواز حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ ہم ان ساری پالیسوں میں ناکام ہوئے۔ دنیا نے یہ دیکھا کہ اسامہ، ملا عمر اور ملا اختر منصور پاکستان میں مرے۔ ان ساری چیزوں سے پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ اب ہم اس بدنامی کا بدلہ غریب افغان مہاجرین سے لینا چاہتے ہیں۔ جو یہاں بین الاقوامی قوانین کے تحت رہ رہے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’محمود اچکزئی نے ایک تاریخی بات کی ہے کہ کے پی افغانستان کا حصہ تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی کہے کہ ماضی میں سندھ بمبئی کا حصہ تھا یا بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا۔ ایک تاریخی تناظر بتانے پر طوفان کھڑا کردیا گیا ہے۔ ڈیورنڈ لائن نے قبیلوں و خاندانوں کو تقسیم کیا ہے۔ افغان عوام اس کو متنازعہ سمجھتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں چاہے وہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہو یا سرحد کا مسئلہ ہو۔ تمام مسائل بات چیت سے ہی حل کیے جاتے ہیں اور حل کیے جانے چاہییں۔‘‘

پاکستانی حکومت نے بدھ 29 جون کو افغان مہاجرین کے ملک میں قیام میں اکتیس دسمبر دوہزار سولہ تک توسیع کر دی تھی

پاکستانی حکومت نے بدھ 29 جون کو افغان مہاجرین کے ملک میں قیام میں اکتیس دسمبر دوہزار سولہ تک توسیع کر دی تھی


محمدو خان اچکزئی نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ لیکن کئی لوگ اچکزئی اور ان کی پارٹی کی وضاحتوں سے مطمئین نظر نہیں آتے۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اچکزئی کے بیان پر شدید تنقید کی۔ اسٹیبلشمنٹ نواز سمجھے جانے والے ایک ٹی وی اینکرنے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ محمود اچکزئی قابلِ فخر پاکستانی اچکزئی قبیلے کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

ٹوئیٹر پر کچھ لوگوں نے اپنے ہیش ٹیگ کا عنوان رکھا ہے ’اچکزئی کو افغانستان بھیجو۔‘ پی ٹی آئی کی آفیشل ٹوئیٹ نے اپنے ہیش ٹیگ کا نام ’کے پی پاکستان کے ساتھ ہے ‘ رکھا ہے ۔ ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ کے پی کے عوام نے اچکزئی کے احمقانہ بیان پر اپنا ردِ عمل دے دیا ہے۔ فیس بک پر ایک صارف نے محمود اچکزئی کے ان رشتہ داروں کی فہرست دی ہے جو یا تو رکن اسمبلی ہیں یا پھر سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور پھر پوچھا کیا یہ جمہوریت ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ نعیم احمدنے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’محمود خان اچکزئی کی سیاست پختون قوم پرستی پر مبنی ہے۔ کابل میں بڑھتے ہوئے بھارتی مفادات پر پاکستان نا خوش ہے اور اگر اسلام آباد افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیتا ہے تو اس سے اشرف غنی کی حکومت کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک نے اچکزئی کی پارٹی میں بے چینی پیدا کردی ہے کیونکہ ان کی سیاست کا محور پختون قوم پرستی کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ کئی افغانی پاکستانی شہریت لے چکے ہیں اور وہ انتخابات میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو اچکزئی نے یہ بیان اپنی پارٹی کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے اور اپنے ووٹ بینک کومحفوظ کرنے کے لیے دیاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اُن کے اس بیان سے کابل حکومت بھی شاید خوش ہوگئی ہوگی۔‘‘