1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’میرے بچے کا باپ کون؟‘، ہوٹل کا خاتون کو نام بتانے سے انکار

ایک جرمن خاتون قانونی کارروائی کے باوجود یہ جاننے میں ناکام رہی ہے کہ سات سال پہلے اُس نے ایک ہوٹل میں کس مرد کے ساتھ راتیں گزاری تھیں۔ دراصل ہوٹل میں اُس قیام کے ٹھیک نو مہینے بعد اس خاتون نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔

اس خاتون کے خیال میں وہی شخص اس بچے کا باپ ہے، جس کے ساتھ اس نے اس ہوٹل میں تین راتیں گزاری تھیں۔ اس خاتون نے جنوبی جرمن شہر میونخ کی ایک عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہوٹل کو اس بات کا پابند کرنا چاہا تھا کہ وہ اس مرد کا نام بتائے۔

میونخ کی اس عدالت نے البتہ اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مشرقی جرمنی میں واقع یہ ہوٹل اُس مرد کی شناخت ظاہر کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے، جس کا اس خاتون کے ساتھ جذباتی تعلق تین راتوں تک قائم رہا اور جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر یہ خاتون حاملہ ہو گئی۔

یہ قصہ جون سن 2010ء کا ہے، جب اس خاتون نے مشرقی جرمن شہر ہالے میں اپنے اس ساتھی کے ساتھ ہوٹل کے ایک کمرے میں قیام کیا تھا۔ اب اس خاتون نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ہوٹل کو اس شخص کا پورا نام بتانے پر مجبور کرے۔ اس خاتون کو اُس مرد کا صرف پہلا نام مائیکل ہی یاد رہ گیا تھا۔ ہوٹل کے اس کمرے کا بِل بھی اُسی مرد نے ادا کیا تھا تاہم ہوٹل نے اس شخص کا پورا نام بتانے یا اُس کا ایڈریس فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مائیکل نام کے چار مرد

یہ کیس اس بناء پر اور بھی پیچیدہ شکل اختیار کر گیا تھا کہ اُس عرصے کے دوران اس ہوٹل میں چار ایسے مرد مقیم رہے تھے، جن کے نام کا پہلا حصہ مائیکل تھا۔ عدالت کے ایک بیان کے مطابق اس خاتون کو صرف ایک ہی اور تفصیل یاد رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ وہ کمرہ ہوٹل کی دوسری منزل پر تھا۔

Fotoreportage Hotel Chuabo in Quelimane Mosambik (Gerald Henzinger)

مرد کے پہلے نام مائیکل کے علاوہ اس خاتون کو صرف ایک ہی اور تفصیل یاد رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ وہ کمرہ ہوٹل کی دوسری منزل پر تھا

عدالت کی جانب سے اس خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ خاتون اُس مرد کا نام جاننے کے بعد اُس سے بچے کے لیے نان و نفقہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس خاتون نے مارچ 2011ء میں پیدا ہونے والے اپنے بیٹے کا نام جوئل رکھا تھا۔

ہوٹل کا اقدام درست تھا

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جرمنی کے وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ہوٹل نے متعلقہ مرد کا نام اور پتہ نہ بتا کر بالکل درست طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ یہ خاتون متعلقہ مرد کے بارے میں زیادہ قطعی نوعیت کی تفصیلات نہیں بتا سکی، اس لیے ہوٹل کے لیے کسی ایک مرد کو شناخت کرنا ایک ناممکن کام تھا۔

ایک عدالتی بیان کے مطابق ججوں نے یہ بھی کہا کہ متعقہ مرد اپنے ذاتی کوائف کو اپنے تک ہی رکھنے اور اپنے کنبے اور اپنی شادی کی حفاظت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مزید کہ اُس کے یہ حقوق اس خاتون کے نان و نفقے کی ادائیگی کے حق پر فوقیت رکھتے ہیں۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مائیکل نام کے چاروں مردوں کو اپنے جنسی تعلقات کو خفیہ رکھنے کا بھی حق حاصل ہے۔