1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میری شکست میں جیمز کومی اور پوٹن کا ہاتھ ہے، کلنٹن

سابق امریکی خاتون اول ہلیری کلنٹن نے گزشتہ برس کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کی ذمہ داری وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر اور روسی صدر ولادی میر پوٹن پر بھی عائد کی ہے۔

نیو یارک میں ایک فلاحی ادارے کی جانب سے منعقدہ ایک ظہرانے کے موقع پر ڈیموکریٹک سیاستدان ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کے دوران رونما ہونے والی غلطیوں کی مکمل ذمہ دار وہ خود ہیں تاہم اس موقع پر انہوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی اور روسی صدر ولادی میر پوٹن پر بھی انگلی اٹھائی۔

کلنٹن کے بقول، ’’میں امریکی صدارتی انتخابات جیتنے کی راہ پر گامزن تھی جب 28 اکتوبر کو ایک ہی وقت میں سامنے آنے والے جیمزکومی کے خط اور روسی وکی لیکس نے اُن لوگوں کے اذہان میں میرے حوالے سے شک و شبہات پیدا کر دیے، جو مجھے ووٹ دینا چاہتے تھے۔ ان کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا گیا۔‘‘ کلنٹن نے مزید کہا کہ اگر انتخابات 27 اکتوبر کو طے ہوتے تو وہ امریکی صدر ہوتیں۔

Kombibild Clinton Putin (dapd/DW)

امریکی صدارتی الیکشن سے تقریباً دس روز قبل ایف بی آئی نے ای میلز اسیکنڈل کے معاملے میں کلنٹن کے خلاف ایک مرتبہ پھر چھان بین شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کلنٹن پر الزام تھا کہ جب وہ وزیر خارجہ تھیں تو انہوں نے سرکاری ای میلز بھیجنے کے لیے اپنا نجی ای میل اکاؤنٹ استعمال کیا تھا۔ ان  ای میلز کا تعلق پاکستان میں ڈرون حملوں سے تھا اور یہ تبادلہ 2011ء اور 2012ء میں اسلام آباد میں متعینہ امریکی سفارت کاروں اور امریکی دفتر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔

کلنٹن کے بقول، ’’روسی صدر مجھے پسند کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے یقینی طور پر ان انتخابات میں دخل اندازی کی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ روسی صدر نے مجھے نقصان اور میرے حریف کو فائدہ پہنچایا ہے۔‘‘

کلنٹن آج کل اپنے تجربات پر ایک کتاب تحریر کر رہی ہیں، جو اس سال شائع ہو جائے گی۔ کلنٹن کے بقول اس کتاب میں ان کے چاہنے والے معافی کی درخواست کے ساتھ ان کے اعتراف بھی پڑھ سکیں گے۔