1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کے نام مہاجرین کے ’شکریے‘ نے پولیس کی دوڑیں لگوا دیں

سیاسی پناہ کے متلاشی دو غیر ملکیوں نے شکریے کے طور پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے نام ایک پیکٹ بھیجا، جسے مشکوک سمجھتے ہوئے جرمن پولیس حرکت میں آ گئی۔

Deutschland Geschenk für Merkel löst Polizei-Einsatz aus (picture alliance/dpa/A. Winkler)

باپ محمد اسماعیل زادہ (بائیں)، بیٹا عرش اسماعیل زادہ (دائیں) اور ماں نرگس اسماعیل زادہ (درمیان میں) چوبی مجسمے اور ’مشکوک‘ پیکٹ کے ساتھ

یہ دونوں پناہ گزین باپ بیٹا ہیں اور ان کا تعلق ایران سے ہے۔ باپ کا نام محمد اسماعیل زادہ جبکہ بیٹے کا عرش اسماعیل زادہ ہے۔ ان دونوں نے کیلوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈبے کو بطور پیکٹ استعمال کیا اور ایک پٹرول اسٹیشن پر جمع کروایا، جو بطور ڈاک خانہ بھی استعمال ہوتا ہے اور جہاں لوگ پٹرول ڈلوانے کے ساتھ ساتھ خط اور پیکٹ بھی جمع کروا سکتے ہیں۔

جرمن اخبار ’رائن سائی ٹُنگ‘ کے مطابق یہ واقعہ جرمنی کی مغربی ریاست رائن لینڈ پلاٹی نیٹ کے ایک قصبے ناؤن ہائم میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ حال ہیں برلن میں پیش آنے والے اور بارہ افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعے کے پس منظر میں پٹرول اسٹیشن پر کام کرنے والے شخص کو یہ پیکٹ مشکوک لگا تو اُس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے دی۔

اس اطلاع کے ملتے ہی پولیس کے نو سپاہی سُونگھ کر بارودی مواد وغیرہ کا پتہ چلا لینے والے ایک کُتے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے تاہم اُنہیں وہاں سے بارودی مواد کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

بعد ازاں پولیس نے دونوں باپ بیٹے کو تلاش کیا اور اُن سے یہ پیکٹ کھولنے کے لیے کہا۔ جب اُنہوں نے اُسے کھولا تو اُس میں سے لکڑی کا بنا ہوا ایک خاتون کا مجسمہ برآمد ہوا، جس کی ایک جانب شام کا اور دوسری جانب جرمنی کا پرچم بنا ہوا تھا۔ باپ محمد اسماعیل زادہ نے یہ مجسمہ جرمنی کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے طور پر بنایا تھا۔ اُس کے بیٹے عرش اسماعیل زادہ نے ’رائن سائی ٹُنگ‘ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بتایا:’’میرے والد نے یہ مجسمہ انگیلا میرکل کے لیے، جرمنی کے لیے بنایا ہے، اس بات پر شکریہ ادا کرنے کے لیے کہ ہم یہاں آ سکے ہیں۔‘‘

پولیس کے کہنے پر دونوں باپ بیٹا اس مجسمے کو اپنے ساتھ لے گئے تاہم بیٹے نے کہا:’’ہماری اب بھی یہ خواہش ہے کہ ہم یہ مجسمہ چانسلر کو روانہ کریں لیکن ابھی ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اِسے کیسے اُن تک پہنچائیں۔‘‘