1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کے لیے آئندہ انتخابات واقعی سخت ثابت ہو سکتے ہیں

جرمن دارالحکومت برلن میں کرسمس مارکیٹ پر حملے کے بعد مہاجرین سے متعلق بحث میں ایک مرتبہ پھر شدت آ گئی ہے۔ کیا چانسلر میرکل کے لیے اگلے انتخابات واقعی مشکل ثابت ہوں گے؟

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے نومبر میں اعلان  کیا تھا کہ وہ چانسلر کے عہدے کی ایک مرتبہ پھر امیدوار ہوں گی۔ تاہم اس اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ  2017ء کے موسم خزاں میں ہونے والے انتخابات ان کے لیےایک مشکل امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کا موضوع ہی انتخابی مہم پر حاوی رہے گا۔

دارالحکومت برلن کی کرسمس مارکیٹ پر ہونے والے حملے نے میرکل کے اس بیان کی مزید تصدیق کر دی ہے۔کیونکہ ایسی خبروں کے بعد کہ اس حملے میں سیاسی پناہ کا ایک متلاشی ملوث ہے، چانسلر کی مہاجر دوست پالیسیاں ایک مرتبہ بھی زیر بحث آ گئیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں میرکل نے کہا تھا: ’’یہ برداشت کرنا اور بھی مشکل ہو گا کہ اگر تصدیق ہو گئی کہ حملہ آور ایک ایسا شخص ہے، جس نے جرمنی میں تحفظ اور پناہ کی درخواست دے رکھی تھی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بہت ہی ناخوشگوار ہو گا۔‘‘

 پیر کی شب برلن حملے کی پہلی خبر جس وقت موصول ہوئی اس لمحے میرکل اپنے دفتر میں تھیں۔ اس موقع پر ان کے دفتر میں وہ افراد موجود تھے، جو جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کے انضمام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ میرکل نے ان افراد کی کوششوں کی تعریف کی اور نسل پرستی کو مکمل طور پر مسترد کیا: ’’ہمیشہ ایسے کچھ لوگ ضرور ہوتے ہیں کہ جنہیں قائل کرنے کے لیے کچھ زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں، جو کوئی بات سننے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔‘‘دوسری جانب مہاجرین کے حوالے سے میرکل کی پالیسیوں کو عالمی سطح پر سراہا بھی گیا۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے۔ اس دوران اسلامک اسٹیٹ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے لیکن آئی ایس کے بیان کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔