1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کے سیاسی کیرئیر کو درپیش ممکنہ چیلنجز

انگیلا میرکل نے چوتھی بار چانسلر بننے کے لیے اگلے برس انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق اِس بار اگر میرکل چانسلر منتخب ہوئیں تو یہ  اُن کے سیاسی کیرئیر کا سب سے بڑا امتحان ہو گا۔

Deutschland Angela Merkel auf dem Tourismusgipfel (picture alliance/dpa/W. Kumm)

میرکل یورپ کی آزاد خیال جمہوریت کے لیے آخری سب سے بڑی امید نظر آتی ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق گیارہ سال سے جرمنی کی باگ ڈور سنبھالنے والی انگیلا میرکل کو منتخب ہونے کی صورت میں نہ صرف یورپ اور ٹرانس اٹلانٹک ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتِ حال کا دفاع کرنا ہو گا بلکہ  یورپی اتحاد کو بھی سہارا دینا ہو گا جو امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد متاثر ہوا ہے۔

 انگیلا میرکل کو یورپی یونین کے ممالک کو نئے سرے سے باہمی طور پر قریب لانا ہو گا۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم اب یورپی یونین ٹوٹنے کے خطرات سے دو چار ہے۔ مزید براں امریکی صدر باراک اوباما کی وائٹ ہاؤس سے عنقریب روانگی کے تناظر میں بھی میرکل یورپ کی آزاد خیال جمہوریت کے لیے آخری سب سے بڑی امید نظر آتی ہیں۔

  باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے برلن میں بطور امریکی صدر اپنے آخری دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ اگر میرکل جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھتی ہیں تو اُن کو بڑے بوجھ اٹھانے ہوں گے۔  کاش میں اُن کا بوجھ کم کرنے کے لیے موجود ہوتا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ ایک مضبوط لیڈر ہیں۔‘‘

 مختلف تجزیاتی جائزے یہ بتاتے ہیں کہ میرکل کو اگلی بار چانسلر منتخب ہونے کی صورت میں متعدد امتحانات سے گزرنا ہو گا۔ سب سے پہلے تو میرکل کو مہاجرین کے جرمنی میں آزادانہ داخلے کی پالیسی پر اپنی حلیف جماعتوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنا ہو گا۔

Deutschland - NATO Gipfel mit Barack Obama und Angela Merkel (picture-alliance/dpa/J. Koch)

باراک اوباما کے مطابق میرکل کو جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے بڑے بوجھ اٹھانے ہوں گے 

 یاد رہے کہ میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیمو کریٹک یونین کو رواں برس جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والےانتخابات میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا جہاں ووٹرز نے میرکل کی مہاجرین کے لیے جرمنی میں آزادانہ داخلے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مہاجر مخالف جماعت اے ایف ڈی کو ووٹ دیے تھے۔ میرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی ہم خیال جماعت کرسچن سوشل یونین کی جانب سے اِس شکست پر جرمن چانسلر کی مہاجرین کے لیے پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جرمن چانسلر میرکل کو آئندہ  انتخابی مہم ایک ٹوٹے پھوٹے سیاسی منظر نامے والے جرمنی میں چلانا ہو گی۔ یہ ایک ایسا منظر نامہ ہو گا جہاں انتہائی دائیں بازو کی نئی سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ قومی پارلیمان میں داخل ہو رہی ہو گی۔

 میرکل کے ممکنہ اتحادی سوشل ڈیمو کریٹس ہو سکتے ہیں، جو میرکل کی قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیمو کریٹک یونین سے دس پوائنٹس پیچھے ہیں اور جو اب بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ تاہم اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر اتحاد کی نوعیت پیچیدہ ہو سکتی ہے اور میرکل کا ووٹ بینک بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

DW.COM