1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرکل کے اتحادی ان کی مہاجر دوست پالیسی کے خلاف

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی میں دہشت گردانہ حملوں کے باوجود اپنی مہاجر دوست پالیسی جاری رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس سے موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ایک اہم اتحادی جماعت متفق نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمنی میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ داعش کے نام پر دہشت گردی کرنے والے دو شدت پسند جرمنی میں پناہ کی تلاش میں آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ ان واقعات کے باوجود اپنی حکومت کی مہاجر دوست پالیسی جاری رکھیں گی اور پناہ کے مستحق افراد کو پناہ دی جائے گی۔

لیکن چانسلر میرکل کے ایک اہم اتحادی ہورسٹ زیہوفر نے، جو کہ نہ صرف صوبے باویریا کے وزیر اعلیٰ ہیں بلکہ وفاقی مخلوط حکومت میں شامل جماعت سی ایس یو کے سربراہ بھی ہیں، انگیلا میرکل کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق چانسلر میرکل کے اس فیصلے کے بارے میں زیہوفر کا کہنا تھا، ’’میں اپنی پوری کوشش، خواہش اور ارادے کے باوجود بھی اس موقف کی حمایت نہیں کر سکتا، کیوں کہ ہمیں جو مشکل درپیش ہے، وہ اس سیاسی موقف سے کہیں بڑی ہے۔‘‘

باویریا کے وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے عہدے کی وجہ سے جو معلومات انہیں حاصل ہیں، ان کی روشنی میں جرمنی کو تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ زیہوفر کے مطابق وہ اس معاملے پر کسی بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتے لیکن وہ ’عوام کے سامنے جھوٹ بھی نہیں بول‘ سکتے۔

سی ایس یو اس سے پہلے بھی جرمنی میں مہاجرین کی بڑی تعداد کو پناہ دیے جانے کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ ملک میں پناہ گزینوں کی آمد کی سالانہ بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے۔

حال ہی میں جرمنی میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج کے مطابق جرمن عوام کی صرف آٹھ فیصد تعداد میرکل کے ’ہم یہ کر سکتے ہیں‘ کے نعرے پر یقین رکھتی ہے۔ چانسلر میرکل کا یہ نعرہ گزشتہ برس اس وقت مقبول ہوا تھا جب انہوں نے تارکین وطن کے لیے ملکی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دینے کے بارے میں عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

DW.COM