1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کی مخلوط حکومت سازی کے مذاکراتی عمل کو دھچکا

لوئر سیکسنی کے ریاستی الیکشن میں میرکل کی شکست اور اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لوئر سیکسنی آبادی کے اعتبار سے جرمنی کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ اس الیکشن میں کامیابی میرکل کے لیے خاصی اہم ہوتی۔

جرمنی کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ زیریں سیکسنی کے ریاستی الیکشن میں کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کو حاصل ہونے والی شکست کے اثرات بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔ یہ شکست انگیلا میرکل کی نئی مخلوط حکومت کے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

 مبصرین کے مطابق چوبیس ستمبر کے انتخابات میں میرکل کی سیاسی جماعت کو بظاہر برتری حاصل ہوئی تھی لیکن میرکل کو اپنی چوتھی مدتِ میں کئی پالیسیوں میں کمزوریوں کا سامنا رہے گا۔ کسی بھی پارٹی کی ناراضی اُن کی حکومت کو اقلیت میں بدل دے سکتی ہے۔

لوئر سیکسنی کے انتخابات میں میرکل کی پارٹی کو شکست

میرکل مہاجرین کی حد مقرر کرنے پر رضامند

’میرکل سن 2021 سے قبل چانسلر کا منصب چھوڑ دیں‘، عوامی رائے

مسلم تہواروں پر چھٹی، جرمن وزیر کی تجویز پر کئی حلقے ’حیران‘

لوئر سیکسنی میں قبل از وقت کرائے جانے والے انتخابات میں سی ڈی یو 33.6 فیصد ووٹ حاصل کر پائی ہے، جوچوبیس ستمبر کے پارلیمانی الیکشن کے بعد میرکل کی مقبولیت میں کمی کا واضح مظہر ہے۔ اس ریاستی الیکشن میں سن 1959 کے بعد سی ڈی یو کی یہ سب سے بُری کارکردگی قرار دی گئی ہے۔

Deutschland Stephan Weil Siegerehrung in der SPD Parteizentrale (Reuters/H. Hanschke)

لوئر سیکسنی کے وزیر اعلیٰ اسٹیفن وائل اور ایس پی ڈی کے سربراہ مارٹن شلس الیکشن جیتنے کے بعد

لوئر سیکسنی کے انتخابات چوبیس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات کے تین ہفتوں کے بعد ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انگیلا میرکل ایک نیا حکومتی اتحاد گرینز پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بنانا چاہتی ہیں۔

 خیال کیا جا رہا ہے کہ نئی حکومتی اتحاد کے مذاکرات پیچیدہ اور طویل ہو سکتے ہیں کیونکہ لوئر سیکسنی کے انتخابی نتیجے نے میرکل کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ حکومت سازی کا مذاکراتی عمل سن 2018 تک جا سکتا ہے۔

جرمن صوبے لوئر سیکسنی میں ہونے والے قبل از وقت انتخابات میں مرکزی جرمن اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو تقریباً 37 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ سی ڈی یو 33.6 فیصد ووٹ حاصل کر پائی ہے۔ لوئر سیکسنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کامیابی نے پارٹی کے لیڈر مارٹن شلس کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

پندرہ اکتوبر کو ہونے والے الیکشن میں انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعت اے ایف ڈی کو بھی لوئر سیکسنی کی ریاستی اسمبلی میں نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ملکی پارلیمان کے علاوہ یہ چودہویں ریاستی اسمبلی ہے جس میں آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کو جگہ ملی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:43

آئندہ جرمن حکومت کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

DW.COM

Audios and videos on the topic