1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کی مایوس کُن فتح

سی ڈی یو اور سی ایس یو نے ڈرامائی حد تک ووٹوں کا نقصان اُٹھایا ہے۔ ایف ڈی پی ایک بار پھر پارلیمان تک پہنچ گئی اور اے ایف ڈی تیسری طاقتور سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے۔

چوبیس ستمبر کو ہونے والے جرمن پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کافی اعتبار سے اچنبے کا سبب بنے۔ خاص طور پر ان سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کے لیے جو یہ اندازہ لگائے بیٹھے تھے کہ انگیلا میرکل کی پارٹی کو لگ بھگ 40 فیصد ووٹ ملیں گے۔ ہوا اس کے بالکل برعکس۔

میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیمو کریٹک یونین کو 1949 ء کے بعد سے اب تک کے بد ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا یعنی سی ڈی یو اور اس کی سسٹر یا ہم خیال پارٹی سی ایس یو کو تینتیس عشاریہ سے کچھ زائد فیصد ووٹ ملے۔ غیر سرکاری نتائج کے سامنے آنے کے بعد انگیلا میرکل نے اپنے بیان میں کہا،’’ہمارے خلاف کوئی بھی پارٹی حکومت نہیں بنا سکتی‘‘۔ میرکل کا یہ بیان کافی حد تک بیباک تھا۔

جرمنی میں نئی حکومت کیسی ہو گی؟

مہاجر اور اسلام مخالف پارٹی اے ایف ڈی پہلی بار پارلیمان میں

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل ہی رہیں گی

ایس پی ڈی اپوزیشن میں بیٹھے گی

 کرسچین ڈیموکریٹک یونین کو ووٹوں کا جو نقصان پہنچا اُس کا فائدہ فری ڈیموکریٹک پارٹی کو ہوا۔ یعنی سی ڈی یو کے کافی ووٹ ایف ڈی پی نے لیے اور میرکل کی سی ڈی یو کے بہت سے ووٹرز نے مہاجرین مخالف پارٹی اے ایف ڈی کی طرف ہجرت اختیار کر لی۔

ویڈیو دیکھیے 01:05

انتخابات کے بعد چانسلر میرکل کا کیا کہنا ہے؟

ساتھ ہی اس بار کے الیکشن میں بھی قدامت پسند پارٹی سی ڈی یو اور سی ایس یو نئے نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف مائل نہ کر سکیں۔ کرسچین سوشل یونین سی ایس یو نے اپنے گڑھ یعنی جنوبی جرمن صوبے باویریا میں 2013 ء کے مقابلے میں قریب دس فیصد ووٹ کا خسارہ اُٹھایا جو دراصل سی ڈی یو کی ووٹ کی شرح کے گرنے میں فیصلہ کُن ثابت ہوا۔

اس بار کے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کو ملنے والے ووٹوں میں ڈرامائی کمی نے میرکل کی پارٹی کے لیے آئندہ حکومت سازی میں سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امکانات کو خارج کر دیا۔ ابتدائی نتائج اور جائزوں کے سامنے آتے ہی ایس پی ڈی کے چوٹی کے لیڈروں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک وسیع مخلوط حکومت کو اب خیر باد کہہ رہے ہیں۔

بڑی کولیشن کی مایوسی

مجموعی طور پر کرسچین ڈیمو کریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 14 فیصد ووٹوں کا نقصان اُٹھایا ہے۔ گرچہ گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں اس بار ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیادہ تھا۔ اس بار ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح 75 فیصد رہی۔ یہ انتخابی حلقوں اور ووٹرز کی طرف سے ان دونوں مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔

اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جرمن سیاسی نظام میں ان دونوں مرکزی پارٹیوں کے بنیادی کردار کو دھچکہ لگا ہے اب یہ ملک اور قوم کے فیصلوں کو اپنے طریقے سے کرنے سے قاصر رہیں گی۔ اس خیال کو مزید تقویت آلٹر نیٹیو فار ڈوئچ لنڈ (اے ایف ڈی) کی 13 فیصد سے زائد ووٹ کا حصول اور اس کے پہلی بار جرمن پارلیمان میں آنے سے ملی ہے۔

1987ء میں سی ڈی یو اور ایس پی ڈی نے مجموعی طور پر 81 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ 2017 ء میں انہیں محض 54 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ اس بار کے الیکشن کے جائزوں میں سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ میرکل کے خلاف کچھ نہ کر سکی۔

سی ڈی یو اور ایس پی ڈی کا گرینڈ کولیشن جرمن معیشت میں ترقی اور بے روزگاری کی شرح میں کمی کے باوجود دیگر سیاسی شعبوں میں عدم اطمینان کا باعث نظر آیا۔ اس کے علاوہ مہاجرین کا بحران اور پینشن کی پالیسی جیسے عوامل بھی سی ڈی یو اور ایس پی ڈی کی مخلوط حکومت کی طرف سے عوام میں عدم اطمینانی کے اضافے کا سبب بنے ہیں۔    

 اے ایف ڈی ایک بڑا چیلنج

تقریباٍ جرمنی کے تمام صوبائی پارلیمانی ایوانوں تک پہنچنے کے بعد اب اسلام اور مہاجرین مخالف پارٹی اے ایف ڈی وفاقی پارلیمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ مشرقی جرمنی میں تو دائیں بازو کی عوامیت پسند یہ جماعت  22 فیصد تک ووٹ حاصل کر کے دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھری ہے۔ مشرقی جرمن مرد شہریوں میں تو اے ایف ڈی سب سے زیادہ مقبول اور ان کی پسندیدہ پارٹی بن چُکی ہے جبکہ وفاقی پارلیمان میں یہ تیسری بڑی جماعت بن چُکی ہے۔

اے ایف ڈی کے حامی اور اسے ووٹ ڈالنے والے شہریوں کے 60 فیصد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس جماعت کو دیگر سیاسی پارٹیوں کی مخالفت کے اظہار کے طور پر بھی ووٹ دیے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ دل سے قائل ہو کر اے ایف ڈی کی حمایت کرنے والے اور اسے ووٹ دینے والے حامی دراصل اقلیت میں ہیں۔ اے ایف ڈی کے چوٹی کے امیدوار آلیکزانڈر گاؤلنڈ نے کہا ہے کہ وہ پارلمیان میں میرکل کی نئی حکومت کو ’’شکار‘‘ بنائیں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic