1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کی السیسی سے ملاقات، مہاجرین کے بحران پر بات چیت

جرمن چانسلرنے اپنے دورہ مصر کے دوران قاہرہ میں صدر السیسی کے ساتھ اپنی ملاقات میں یورپ کی طرف مہاجرین کا بہاؤ روکنے کی خاطر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہ دو شمالی افریقی ممالک کے اس دورے کے دوران تیونس بھی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جرمن حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل نے دو مارچ بروز جمعرات قاہرہ میں مصری صدر عبداالفتاح السیسی سے ملاقات میں مہاجرین کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بات چیت کی کہ شمالی افریقی ممالک سے یورپ کی طرف ہجرت کرنے والے افراد کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔

لیبیا کی ’جہنم‘، مہاجرت کی بڑی وجہ

’رواں برس بھی یورپ کو گزشتہ برس جتنے مہاجرین کا سامنا ہو گا‘

بحیرہ روم کے راستے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد کیسے روکی جائے؟

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ کے مطابق برلن حکومت مصر کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ غیر قانونی مہاجرین کو خطرناک سمندری راستوں سے گزر کر یورپ پہنچنے سے روکا جا سکے۔ جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ اس مقصد کی خاطر وہ مصری ساحلی محافظوں کے ساتھ قریبی شراکت داری کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ بحیرہ روم میں فعال انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی پر بھی غور کر سکتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ اسی سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہزاروں انسان سمندر میں ڈوب کر ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین کی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کی خاطر امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاہم تنازعات اور شورش زدہ خطوں سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تمام تر خطرات کے باوجود کسی طرح یورپ پہنچ جائیں۔ اس مقصد کے لیے وہ انسانوں کے اسمگلروں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین لیبیا کی ساحلی حدود سے کمزور اور خستہ حال کشتیوں میں بیٹھ کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ رواں برس ستمبر میں جرمنی میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ میرکل کی مہاجر دوست پالیسی اور پھر جرمنی اور یورپ میں ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کے باعث میرکل کی عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نہ صرف اپوزیشن بلکہ ان کے اپنے حکومتی اتحاد میں شامل کچھ سینئر سیاستدان بھی میرکل کو اسی باعث تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم میرکل مصر ہیں کہ جرمنی مہاجرین کو خوش آمدید کہتا رہے گا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے تازہ ترین ہفتہ وار پوڈکاسٹ پیغام میں واضح کیا تھا کہ لیبیا میں شورش کے خاتمے کے بغیر وہاں فعال انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف مناسب کارروائی مشکل ہے۔ اسی شمالی افریقی ملک سے مہاجرین اور تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کشتیوں میں سوار ہو کر اٹلی پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔

انگیلا میرکل کے ہمراہ جرمن تاجروں کا ایک بڑا وفد بھی مصر پہنچا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا۔ میرکل اس دو روزہ دورے کے دوران جمعے کے دن تیونس میں صدر بیجی قائد السبسی سے بھی ملاقات کریں گی۔

DW.COM