1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کا ’ نان نیو کلیئر‘ منصوبہ غیر سنجیدہ ہے: اپوزیشن

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا اپنے ملک کو 2022 ء تک ’ نان نیو کلیئر‘ بنانے کا منصوبہ غیر سنجیدہ ہے۔ یہ کہنا ہے جرمنی کے اپوزیشن لیڈروں کا۔ اس بارے میں آج وفاقی پارلیمان میں گرما گرم بحث ہوئی،

default

جوہری توانائی کا موضوع جرمن پالیمان میں زیر بحث

چانسلر میرکل نے اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود جوہری توانائی سے متعلق اپنی نئی حکومتی اسٹریٹیجی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا ہےکہ اُن کی طرف سے جرمنی کے ایٹمی بجلوں گھروں کو بند کرنے اور جوہری توانائی کے بجائے قابل تجدید توانائی پر مکمل انحصار کرنے کے منصوبوں کے باوجود جرمنی میں کبھی بجلی نہیں جائے گی اور نہ ہی بلیک آؤٹ ہوگا۔ انگیلا میرکل نے آج وفاقی پارلیمان میں اپنی حکومت کی طرف سے حال ہی میں کیے جانے والے اُس فیصلے کے بارے میں پالیسی بیانات دیے، جن کے تحت2021ء تک زیادہ ترایٹمی بجلی گھر بند کر دیے جائیں گے جبکہ تین جوہری پاور پلانٹس کھلے رہیں گے، جنہیں بجلی کی قلت کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔ تاہم یہ تینوں ایٹمی بجلی گھر بھی 2022ء میں بند کر دیے جائیں گے۔

Uranlösung aus französischer Atomanlage ausgetreten

فرانس میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد کافی زیادہ ہے

میرکل کے بقول ’جرمنی جاپان کے ساتھ ہے۔ فوکو شیما کے المیے سے یہ ثابت ہوگیا ہےکہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل جاپان جیسے ملک میں بھی جوہری توانائی کے خطرات کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ جو بھی ان خطرات کو محسوس کر لے گا وہ احتیاطی تدابیر پر غور کرے گا۔ میں نے بھی ان خطرات کو محسوس کر لیا ہے۔ اس لیے جوہری توانائی کی اہمیت اور ضرورت کا تعین نئے سرے سے کیا ہے‘۔

اُدھر اپوزیشن جماعتوں گرین پارٹی اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی نےگرچہ جوہری توانائی کے استعمال کو جلد از جلد بند کر دینے کے فیصلے کو منظور توکیا ہے تاہم وہ اس حقیقت کو باربار سامنے لا رہی ہےکہ گزشتہ برس میرکل حکومت نے ایٹمی پلانٹس کو بند کرنے کی مجوزہ تاریخ یعنی 2022 ء کو ملتوی کرکے اس پر 2036 ء میں عمل در آمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دراصل 1998ء سے 2005ء کے دوران سوشل ڈیمو کریٹس اور گرین پارٹی کی مخلوط حکومت نے یہ پالیسی تشکیل دی تھی، جس پرکرسچن ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو نے اب عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میرکل کے پالیسی بیان کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ فرانک والٹر اشٹائن مائرمیرکل پر برس پڑے۔

Flash-Galerie Anti-ATOM Protesten in Deutschland

جرمنی میں جوہری توانائی کے خلاف بہت بڑے مظاہرے ہوتے رہے ہیں

انہوں نے میرکل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ چانسلر میرکل آپ یہاں بالکل غلط تاثر دے رہی ہیں۔ میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ آپ نے دس سال قبل ہماری جوہری توانائی کی پالیسی کی کس قدر مخالفت کی تھی۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اب آپ خود کو ملک میں جوہری توانائی کے شعبے میں انقلاب کی چیمپئن ثابت کر رہی ہیں‘۔

دریں اثناء تجارتی طبقے کی حمایت کرنے والی فری ڈیمو کریٹک پارٹی ایف ڈی پی، جومیرکل کی مخلوط حکومت کا حصہ ہے، جوہری توانائی کےاستعمال کو بند کرنے سے متعلق پالیسی پر شکوک وشبہات کا اظہار کر رہی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس