1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل کا انسداد دہشت گردی کے مشترکہ مرکز کا دورہ

برلن میں قائم دہشت گردی کی روک تھام کے مشترکہ مرکز میں جرمنی کے تمام سکیورٹی ادارے مل کر کام کرتے ہیں اور اس مرکز کو کافی عرصے سے وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کے دورے اور ان کی طرف سے حوصلہ افزائی کا انتظار تھا۔

Deutschland Gemeinsames Terrorismusabwehrzentrum Holger Münch, Angela Merkel und Thomas de Maizière

چانسلر میرکل وزیر داخلہ ڈے میزیئر، دائیں، اور بی کے اے کے صدر ہولگر میونش، بائیں، کے ہمراہ

منگل چھبیس اپریل کے روز جب برلن کے ٹریپٹوو Treptow پارک نامی علاقے میں میرکل اس مرکز کے دورے کے لیے پہنچیں تو ان کا استقبال کرنے والوں میں جرمنی کے تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہ ذاتی طور پر موجود تھے، جن کی قیادت جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی دفتر BKA کے سربراہ ہولگر میونش کر رہے تھے۔

فیڈرل کریمینل آفس یا بی کے اے کا صدر دفتر یوں تو صوبے ہیسے کے دارالحکومت ویزباڈن میں ہے، لیکن برلن میں جس جگہ انسداد دہشت گردی کا یہ مشترکہ مرکز کام کرتا ہے، وہ جگہ دراصل بی کے اے کا برلن میں قائم ذیلی دفتر ہے۔

جرمنی میں سلامتی کے ذمے دار جتنے بھی ملکی ادارے کام کرتے ہیں، ان سب کے دفاتر پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن ان کی کارکردگی میں مرکزیت پسندی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہونے والے کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے برلن میں اس دفتر کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ دفتر، جسے جرمن زبان میں مختصراﹰ GTAZ کہا جاتا ہے، 2004ء میں قائم کیا گیا تھا۔

وفاقی جرمنی میں اس دفتر کے کام کی اہمیت ویسی ہی ہے، جیسی شکار کے لیے استعمال ہونے والے کسی نیزے کے لیے اس کے پھل کی۔ اس دفتر میں جرمنی میں وفاقی اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے تمام 40 سکیورٹی اداروں کے سرکردہ اہلکار مل کر کام کرتے ہیں۔

Deutschland Gemeinsames Terrorismusabwehrzentrum Angela Merkel und Thomas de Maizière

انگیلا میرکل کو اس مرکز کے دورے کے دوران دی جانے والی بریفنگ کا ایک منظر

اس دفتر کی معمول کی مشاورتی نشستوں میں پولیس کے اعلیٰ اہلکار، وفاقی خفیہ سروس BND، تحفظ آئین کے وفاقی ادارے BfV اور جرمنی کی ملٹری سیکرٹ سروس MAD کے اہلکار سب مل کر ایک جگہ پر بیٹھتے ہیں اور آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مرکز میں ہونے والے باقاعدہ اجلاسوں میں وفاقی پولیس، جرمن کسٹمز آفس، وفاقی دفتر برائے مہاجرین اور ترک وطن اور وفاقی دفتر استغاثہ کے اعلیٰ ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں۔

جرمن سیکرٹ سروس بی این ڈی کی اعلیٰ قیادت کے مطابق ماضی میں شدید تنقید کے بعد یہی وہ وقت تھا کہ جرمن چانسلر ملکی انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی کے بارے میں چند حوصلہ افزا باتیں کہتیں۔ یہ باتیں انہوں نے برلن میں انسداد دہشت گردی کے اس مشترکہ مرکز کے قریب دو گھنٹے کے دورے کے دوران کہیں بھی۔

انگیلا میرکل نے کہا، ’’یہ مرکز اور اس میں نمائندگی کے حامل ملکی ادارے انتہائی شاندار طریقے سے اس اپنا کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ سکیورٹی کی مجموعی صورت حال تناؤ کا شکار ہے لیکن یہ بات باعث اطمینان ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے مل کر اس طرح کام کر رہے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو روکنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی انسان یا ادارے کے بس میں ہو سکتا ہے۔‘‘

اس مرکز کے دورے کے دوران چانسلر میرکل نے وفاقی وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کی بھی خاص طور پر تعریف کی، جو اس مرکز کی کارکردگی کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے فعال ہیں اور اسی وجہ سے وفاقی خفیہ ادارے BND کا سالانہ بجٹ بھی بڑھا کر 615 ملین یورو سے 701 ملین یورو کر دیا گیا تھا۔

Terrorismusabwehrzentrum in Berlin Archiv

اس مرکز میں جرمنی کے تمام چالیس سکیورٹی ادارے مل کر کام کرتے ہیں

اپنے اس دورے کے دوران انگیلا مریکل نے اس بات پر بھی خاص طور پر زور دیا کہ ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے بہتر قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئےسلامتی کے تقاضوں اور عام شہریوں کے نجی ڈیٹا کے تحفظ کے قانون کے درمیان ایک نیا توازن تلاش کرنا ہو گا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا یہ موقف بھی اپنی جگہ قائل کر دینے والا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران جرمنی کو دہشت گردی کے جن شدید خطرات کا سامنا رہا ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ’جغرافیائی طور پر مزید قریب‘ آ چکے ہیں۔

میرکل کے مطابق پیرس اور برسلز میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے اگر دیکھا جائے تو جیسے ’ہمارے گھر کے دروازے کے عین سامنے‘ کیے گئے۔ اب تک اگر جرمنی ایسے کسی بڑے خونریز حملے سے بچا رہا ہے تو اس کا سبب سکیورٹی اداروں کے مابین داخلی اور بین الاقوامی سطح پر کیا جانے والا تعاون رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں برلن میں انسداد دہشت گردی کے مشترکہ مرکز کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جو قابل تعریف بھی ہے اور آئندہ بھی مزید بہتر حالت میں جاری رہے گا۔

DW.COM