میرکل نے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ پھر مسترد کر دیا | مہاجرین کا بحران | DW | 04.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرکل نے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ پھر مسترد کر دیا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکمران اتحاد میں شامل جماعت کرسچیئن سوشل یونین کی جانب سے جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد مقرر کرنے کے مطالبے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔

باویریا میں میرکل کی جماعت CDU کی اتحادی CSU کے رہنما ہورسٹ زیہوفر نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں دو لاکھ مہاجرین سالانہ کی حد مقرر کی جائے، تاہم پیر کے روز چانسلر میرکل کے ترجمان شٹیفان زائبرٹ نے کہا کہ چانسلر میرکل کا موقف اس بات پر مختلف ہے۔ ’’یہ چانسلر میرکل کی پوزیشن نہیں ہے۔‘‘

اتوار کے روز جنوبی جرمن ریاست باویریا کے وزیراعلیٰ اور سی ایس یو جماعت کے سربراہ، زیہوفر نے مطالبہ کیا تھا کہ وفاقی جرمن حکومت ملک میں مہاجرین قبول کرنے کے حوالے سے ایک حتمی حد مقرر کرے۔

میرکل کے ترجمان نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ قومی سطح پر مہاجرین کی حد مقرر کرنے سے ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک یورپی مسئلہ ہے اور اس کا حتمی حل یورپی یونین کی ریاستوں میں مہاجرین کی ایک کوٹے کے تحت تقسیم ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا تحفظ اور مہاجرین کے بحران کی بنیادی جڑ کو ختم کر کے ہی یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

جنوبی جرمن ریاست باویریا کے وزیر اعلیٰ زیہوفر مہاجرین کے حوالے سے وفاقی جرمن حکومت کی پالیسی کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں، جب کہ چانسلر میرکل کی قدامت پسند جماعت کے متعدد رہنما بھی ملک میں مہاجرین کے سیلاب پر تشویش اور حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں۔

باویریا کے حکام کے مطابق گزشتہ برس جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک اعشاریہ ایک ملین تھی۔ جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ زدہ ریاستوں شام اور عراق سے ہے۔

گزشتہ برس ترکی سے پیدل یا شکستہ حال کشتیوں پر سوار ہو کر یورپی ممالک کا رخ کرنے والے افراد کے لیے جرمن چانسلر میرکل نے ملکی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے لاکھوں افراد جرمنی اور دیگر شمالی یورپی ممالک پہنچ چکے ہیں۔ چانسلر میرکل بارہا کہہ چکی ہیں کہ جنگ زدہ ممالک سے اپنی زندگی بچانے کے لیے جرمنی پہنچنے والے افراد کو ہرصورت میں پناہ دی جائے گی۔

DW.COM