1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرکل مہاجرین کی حد مقرر کرنے پر رضامند

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنے قدامت پسند اتحاد کو متحد کرنے کے لیے ملک میں مہاجرین کے داخلے کی حد مقرر کرنے پر رضامند ہو گئی ہیں۔

حالیہ انتخابات میں انتہائی دائيں بازو کی جماعت ’الٹرنیٹیو فار ڈوئچلانڈ‘ يا AfD کی ریکارڈ کارکردگی اور قدامت پسند اتحاد کو بھاری نقصان کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکومت سازی کے لیے دو جماعتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کے آغاز سے قبل ملک میں مہاجرین کے داخلے کی حد مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

مہاجرین کا معاملہ، سی ڈی یو اور سی ایس یو کے مذاکرات

’میرکل سن 2021 سے قبل چانسلر کا منصب چھوڑ دیں‘، عوامی رائے

دیوار برلن کی جگہ اجنبیت کی دیواریں کھڑی ہو گئیں، جرمن صدر

کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین کی باویریا میں سسٹر پارٹی کرسچیئن سوشل یونین کی جانب سے میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ سن 2015ء میں چانسلر میرکل کے قریب ایک ملین مہاجرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے تناظر میں انتہائی دائیں بازو کی مہاجرین اور مسلم مخالف جماعت اے ايف ڈی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا۔ سی ایس یو کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو ہو رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:43

آئندہ جرمن حکومت کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

زیہوفر چاہتے ہیں کہ مہاجرین سے متعلق پالیسیوں کو سخت بناتے ہوئے، اگلے برس ہونے والے ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی کی جانب دیکھنے والے ووٹروں کو ایک مرتبہ پھر اپنی جانب راغب کیا جائے۔

میرکل کی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو اور باویریا میں اس کی سسٹر پارٹی سی ایس یو کے درمیان دس گھنٹے کے بند کمرہ اجلاس کے بعد طے کیا گیا ہےکہ جرمنی میں سالانہ بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ دو لاکھ مہاجرین کو پناہ دی جائے گی۔ اس سے قبل زیہوفر کی جانب سے بارہا مطالبات کے باوجود چانسلر انگیلا میرکل اس بات پر رضامند نہیں ہوئی تھیں۔

اس اجلاس کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان ربط کو مضبوط کرنا تھا، تاکہ حکومت سازی کے لیے مذاکرات کے آغاز پر بہتر انداز سے بات چیت ممکن ہو۔

چانسلر میرکل کو حکومت سازی کے لیے فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) اور ماحول دوست جماعت گرین پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic