1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرکل مہاجرین دوست پالیسی پر ’یو ٹرن‘ لے چکیں، گابریئل

جرمنی کے وفاقی نائب چانسلر اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے سربراہ زیگمار گابریئل کا کہنا ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی بالکل تبدیل کر چکی ہیں۔

Koalitionsgespräche Seehofer Merkel Gabriel

انگیلا میرکل (سی ڈی یو)، زیگمار گابریئل (ایس پی ڈی) اور ہورسٹ زیہوفر (سی ایس یو)

زیگمار گابریئل جرمنی کے نائب چانسلر اور وفاقی وزیر اقتصادیات ہونے کے علاوہ برلن میں حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ گابریئل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی مہاجرین دوست پالیسی مکمل طور پر بدل دی ہے۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

جرمنی کے کثیر الاشاعت ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں زیگمار گابریئل نے کہا، ’’گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں جرمن چانسلر نے فیصلہ کیا تھا کہ یونان اور ہنگری میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کے لیے جرمنی کی سرحدیں کھول دی جائیں، اس وقت یہ فیصلہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔‘‘

انگیلا میرکل کے اس فیصلے کو اس وقت نہ صرف جرمن عوام کی جانب سے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بہت سراہا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور صرف 2015ء میں جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی تھی۔

اس بارے میں زیگمار گابریئل کا کہنا تھا، ’’بعد میں جب آسٹریا، ہنگری، سلووینیہ اور بلقان کی دیگر ریاستوں نے اپنی اپنی سرحدیں بند کرنا شروع کر دیں تو میرکل نے کہا کہ وہ ایڈومینی میں پھنسے تارکین وطن کو جرمنی نہیں لائیں گی کیوں کہ وہ یونان ہی میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ عمل ان کی مہاجرین دوست پالیسی کے بالکل برعکس تھا۔‘‘

مہاجرین اور تارکین وطن کو یورپ کی جانب سفر کرنے سے روکنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے متنازعہ معاہدے میں بھی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔

حالیہ دنوں میں ترک صدر کی جانب سے اختیار کیے گئے غیر لچکدار رویے کے باعث یہ خطرہ دکھائی دے رہا ہے کہ یہ معاہدہ ناکام بھی ہو سکتا ہے۔ انگیلا میرکل یورپ اور ترکی کے مابین جاری اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بائیس مئی کو ایک بار پھر انقرہ کا دورہ کر رہی ہیں۔

جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئل کا کہنا تھا کہ یورپ کو کسی صورت بھی ترک شہریوں کو بغیر ویزہ یورپ کا سفر کرنے کی اجازت اس وقت تک نہیں دینا چاہیے جب تک انقرہ اس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کرتا۔

’ڈیئر اشپیگل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایس پی ڈی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی رائے میں ترکی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ یورپ میں جاری مہاجرین کا بحران حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔ گابریئل کے بقول، ’’یونانی جزیروں تک پہنچنے کا راستہ بند ہونے کے بعد لوگ بلغاریہ، اٹلی اور دیگر راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

ویڈیو دیکھیے 02:10

اڈومینی کے ابتر حالات میں مہاجرین کی تشویش

DW.COM

Audios and videos on the topic