1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرکل سے اختلافات ماضی بن چکے ہیں، اوربان

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے کہا ہے کہ مہاجرین کے موضوع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ان کے اختلافات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور ہنگری اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب جرمنی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

دائیں بازو کے رہنما اوربان نے کہا کہ مہاجرین سے متعلق جرمن چانسلر کا موقف تبدیل ہو چکا ہے اور اب جرمنی نے بھی اپنے سرحدی کنٹرول کو سخت تر بنا دیا ہے، اس لیے اب ان کا چانسلر میرکل کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ہنگری کے سرکاری ریڈیو چینل کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم وکٹور اوربان نے کہا، ’’موقف میں اختلاف اب قصہء پارینہ ہے۔ جرمن حکومت نے مہاجرین کے مسئلے پر اپنی پوزیشن تبدیل کر لی ہے۔‘‘

گزشتہ برس اگست میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول دینے کا اعلان کیا تھا اور یورپی یونین کے سرحدی ضوابط کو معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک ملین سے زائد رہی تھی۔ اس موضوع پر میرکل کی اپنی قدامت پسند جماعت کے رہنما بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے تھے۔

Ungarn baut Zaun zu Kroatien

ہنگری وہ پہلا یورپی ملک تھا جس نے اپنی سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کیں

اوربان کے مطابق برلن حکومت اب تسلیم کرتی ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔‘‘

گزشتہ برس ہنگری مغربی بلقان کے خطے کا وہ پہلا ملک تھا، جس نے مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں بند کی تھیں۔ یہ مہاجرین ہنگری کے راستے مغربی یورپ پہنچ رہے تھے، تاہم یہ راستہ بند ہو جانے کے بعد انہیں متبادل اور زیادہ طویل سفر اختیار کرنا پڑا۔ بعد میں بلقان کی ریاستوں کی جانب سے بھی اپنی قومی سرحدوں کی بندش کے اعلان کے بعد ہزاروں مہاجرین یونان میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین اب بھی مقدونیہ کی سرحد کے قریب یونانی علاقے اڈومینی میں اس امید کے ساتھ ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کہ شاید مقدونیہ انہیں اپنی سرزمین استعمال کرتے ہوئے مغربی اور شمالی یورپ جانے کی اجازت دے دے۔

یورپی یونین اور ترکی کی ڈیل اور نیٹو کا گشت

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان مہاجرین کے بحران سے متعلق طے پانے والی ڈیل کے بعد بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں تو کمی آئی ہے، تاہم خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور گروہ اب متبادل راستوں کا استعمال کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کا بحری مشن مارچ سے یورپی آبی سرحدوں کی نگرانی میں مصروف ہے۔

یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس نے جمعے کے روز کہا کہ ترکی کی جانب سے نئے نئے مطالبات نیٹو بحری مشن کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہء ایجیئن میں جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کے لیے نیٹو کو ہر علاقے تک رسائی دی جانا چاہیے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ سے ایتھز میں ملاقات کے بعد سپراس نے کہا کہ نیٹو کو اپنے مکمل آپریشنز کے لیے خطے کے ہر علاقے تک رسائی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا، ’’یونان کی پوری کوشش ہو گی کہ ہر وہ قدم اٹھایا جائے، جس سے نیٹو مشن اس بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’بدقسمتی سے ترکی کی جانب سے یک طرفہ مطالبات اور کارروائیوں کی وجہ سے رکاوٹیں واضح ہیں۔ ترکی کی یک طرفہ کارروائیوں کی وجہ سے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی ہو رہی ہے۔‘‘