1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل سعودی عرب سے قطر پہنچ گئیں

جر من چانسلر انگیلا میرکل ابوظہبی اور سعودی عرب کے دورے مکمل کرنے کے بعد بدھ کی سہ پہر قطر پہنچ گئیں۔ آج جمعرات کو وہ مختصر دورے پر بحرین میں رکتے ہوئے واپس جرمنی کے لئے روانہ ہو جائیں گی۔

default

انگیلا میرکل اور شاہ عبد اللہ

سعودی عرب کے بعد جرمن چانسلر میرکل کی تیسری منزل قطر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ انگیلا میرکل قطر میں بھی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں عالمی امور کی مناسبت سے اس پالیسی پر گامزن رہیں گی جو انہوں نے ابو ظہبی اور سعودی عرب میں جاری رکھی ہے۔ قطر پہنچنے پر جرمن چانسلر نے خلیجی ملکوں کے یورو کرنسی کی قدر میں عدم استحکام پر تحفظات کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یورو زون میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں، جن سے یورو کو ایک کرنسی کے طور پر استحکام حاصل ہو۔

سعودی عرب میں جرمنی کی خاتون چانسلر نے جہاں اقتصادی روابط کو مزید استحکام اور فروغ دینے کی بات کی، وہیں پر خواتین کی مجموعی صورت حال کے موضوع کو بھی بعض مقامات پر زیر بحث لانے سے گریز نہیں کیا۔ جدہ میں جرمن چانسلر سعودی تاجر برادری سے منسلک خواتین اور مردوں سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تجارت کے فروغ کے کئی پہلوؤں کو زیر بحث لائیں۔ اس موقع پر سعودی عرب کے وزیر تجارت عبداللہ بن احمد زینال نے واضح کیا کہ دونوں ملک

Angela Merkel Saudi Arabien Mai 2010

جدہ میں تاجروں کی میٹنگ میں جرمن چانسلر

تجارت کے حجم کو اعلیٰ معیار کے ساتھ وسعت دینے پر متفق ہیں۔ جدہ میں تاجروں سے بات چیت کے دوران انگیلا میرکل نے تیل و گیس کی تلاش کے نئے مقامات میں جرمن سرمایہ کاری کے امکانات کا اظہار بھی کیا۔ اس میٹنگ میں سعودی تاجروں نے یورو زون کی کرنسی کی قدر میں عدم استحکام پر بھی اظہار رائے کیا۔ اس کے جواب میں انگیلا میرکل نے کہا کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے اور وہ یور کی قدر کے استحکام کے لئے عملی اقدامات تجویز کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

جدہ میں سعودی تاجروں کے ساتھ میرکل اور ان کے وفد نے علیحدہ سے بند کمرے میں ہونے والی ایک میٹنگ میں بھی شرکت کی۔ اس میٹنگ میں جو اہم امور زیر بحث لائے گئے، ان کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اسی طرح چانسلر میرکل نے سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں شریک خواتین کے ساتھ بھی علیحدگی میں ایک خصوصی ملاقات کی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چھ سال قبل سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کی مد میں تین ارب ڈالر کا لین دین ہو تا تھا، جو سن 2008 میں دس ارب ڈالر کی ‌حد سے تجاوز کر چکا تھا۔ گزشتہ دو سالوں کی مالی کساد بازاری سے یہ تجارتی حجم یقینی طور پر متاثر دکھائی دیتا ہے، تاہم امید کی جا رہی ہے کہ جوں جوں جرمن معیشت رفتار پکڑے گی، توں توں یہ تجارت اور بھی وسعت پائے گی۔

Angela Merkel Saudi Arabien Mai 2010

میرکل اور جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر

جرمنی کی خواہش ہے کے خلیجی ملکوں کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کو کسی طور حتمی شکل دے دی جائے مگر اس راہ میں ابھی تک کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں سے خلیجی ملکوں کے ساتھ اس معاملے پر مسلسل بات چیت کا عمل جاری ہے۔ آزاد تجارت کے معاہدے کی تشکیل میں یورپی یونین کی طرف سے رکھی گئی ایک شرط بھی حائل ہے، اور وہ یہ کہ ان ملکوں کو اپنے ہاں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال کو لازمی طور پر بہتر بنانا ہو گا۔

خلیجی تعاون کی کونسل کے سیکریٹری جنرل عبدالرحمٰن العطیہ نے دو روز قبل اس معاہدے کے حوالے سے کہا تھا کہ یورپی یونین مناسب زمین ہموار ہونے کا موقع نہیں دے رہی اور اسی باعث آزاد تجارت کے معاہدے کی راہ میں تعطل پایا جاتا ہے۔ جدہ میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے میرکل نے واضح کیا کہ آزاد تجارت کے معاہدے پر اگر جلد کوئی پیش رفت نہ ہوئی، تو پھر اسے عجائب گھر میں رکھ دینا چاہیے۔ یورپی یونین اور خلیجی تعاون کی کونسل کے درمیان برسوں سے اس بارے میں بات چیت جاری ضرور ہے لیکن تاحال کوئی حتمی شکل سامنے نہیں آئی۔

انگیلا میرکل نے جرمن پاسپورٹ کنٹرول اور غیر ملکیوں کو ویزے جاری کرنے والے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی عرب کے شہریوں کو ویزے دینے میں غیرضروری رکاوٹوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ سعودی شہریوں کو شکایت ہے کہ جرمنی کے ویزا حکام انہیں جرمنی کے لئے تجارتی یا ہسپتالوں میں علاج معالجے کے ساتھ ساتھ سیاحتی ویزے جاری کرنے میں غیرضروری شرائط استعمال کرتے ہوئے پریشانیاں پیدا کرتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM