1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل اور یلدرم کی ٹیلی فونک گفتگو، کشیدگی کم کرنے کی کوشش

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کو تعمیری اور مثبت قرار دیا ہے تاہم جرمنی میں ترک باشندوں کی ریلیوں پر پابندی کے معاملے پر دونوں ممالک میں کشیدگی ابھی تک برقرار ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ترک میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے چار مارچ بروز ہفتہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بتایا گیا ہے کہ ایک گھنٹے طویل اس ٹیلی فون کال کے دوران ترک وزیر اعظم نے جرمنی میں ترک باشندوں کی ریلیوں پر پابندی کے فیصلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے برلن حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

ترکی اور جرمنی کی کشیدگی، ’اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘

اجلاس منسوخ کرنے پر جرمنی پر دوہرے معیار کا الزام، ترکی

ترک سياست دانوں کی جرمنی ميں ريلياں بند

ترکی میں اپریل میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ووٹرز نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ترک صدر کے اختیارات میں اضافے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ جرمنی میں ایسے ایک ملین ترک باشندے آباد ہیں، جو اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ اسی مقصد کی خاطر ترک حکومت نے جرمنی کے دو ایسے علاقوں میں ریلیاں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جہاں ترک آبادی زیادہ تعداد میں ہے۔ ان ریلیوں کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حامی سیاستدانوں نے خطاب بھی کرنا تھا تاکہ وہ جرمنی میں آباد ترکوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ہفتہ چار مارچ کو قہر شہر میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ جرمنی میں ترکوں کی ریلیوں پر پابندی کا فیصلہ جمہوریت اور آزادی کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جرمنی میں آباد ترک شہری جرمن حکومت کے اس رویے پر اپریل کے ریفرنڈم کو زیادہ جوش کے ساتھ منظور کریں گے۔

میرکل کے ساتھ گفتگو کے بعد البتہ یلدرم نے کہا کہ وہ جرمنی میں ایسے جلسوں کے انعقاد کے حوالے سے مختلف حکمت عملی اختیار کریں گے۔ یلدرم نے مزید کہا کہ ترک وزیر خارجہ آئندہ ہفتے اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Türkei Kirsehir - Türkischer Premierminister Minister Binali Yildirim (picture-alliance/abaca/H. Goktepe)

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے قہر شہر میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ جرمنی میں ترکوں کی ریلیوں پر پابندی کا فیصلہ جمہوریت اور آزادی کے لیے ٹھیک نہیں ہے

جرمنی کے علاوہ ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں بھی ترکوں کے ایک ایسے ہی جلسے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح آسٹریا میں بھی ایسی ریلیوں پر پابندی عائد کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے باعث یورپی ممالک تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں ہنگامی حالت نافذ ہے جبکہ اس دوران حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ایک سو چالیس صحافی بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

جرمنی اور ترکی کے مابین سفارتی کشیدگی جرمن روزنامے  ’دی ویلٹ‘ کے  ترک نژاد جرمن صحافی ڈینیز یوچیل کی گرفتاری کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یوچیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جرمنی کے لیے جاسوسی کرتے ہیں،’’ یوچیل جرمن خفیہ ایجنٹ ہے اور وہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا نمائندہ ہے۔‘‘ جرمن وزارت خارجہ نے ایردوآن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات