1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمن پارلیمانی انتخابات

میرکل اور نوجوان سوشل میڈیا بلاگرز کے سخت سوالات

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کل بدھ کے روز سوشل میڈیا کے چار اسٹار بلاگرز کے سوالات کے جواب دیے۔ میرکل کی جانب سے یوٹیوب بلاگرز کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا اور جانیے کہ اس دوران میرکل کی کارکردگی کیسی رہی؟

انیس سالہ لیزا، انیس سالہ یوحانا، اشتر آئزک اور اٹھارہ برس کے کیلیان جرمنی کے عام انتخابات میں پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں لیکن ان پر ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بیلٹ پیپر کو پُر کیسے کرنا ہے۔

 الیکشن کی مہم کے سلسلے میں میرکل نے ووٹرز کو اُن کی عمروں کے لحاظ سے فوکس کرنا چاہا اور یو‌ٹیوب پر چار ایسے نوجوان بلاگرز کے سوالات کے جواب دیے جو عام طور پر پولیٹیکل سائنس، ٹیکنالوجی سے لے کر  طرز زندگی اور فیشن تک کے موضوعات پر اپنے بلاگز میں مشورے دیتے ہیں۔ میرکل کا بلاگرز کے ساتھ یہ انٹرویو لیزا، یوحانا اور کیلیان نے ڈی ڈبلیو کی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا۔

پروگرام کا آغاز ’’ اٹس کولز لاء‘‘ نامی بلاگر سے ہوا جس نے میرکل سے تعلیم اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل نہ کرنے والے خاندانوں کے نوجوان افراد کے لیے مواقعوں میں مساوات کے حوالے سے سوالات کیے۔ اس کے علاوہ میرکل سے یہ بھی دریافت کیا کہ اُنہوں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے معاملے پر ’نہیں‘ میں ووٹ کیوں دیا۔ ’اِٹس کولز لاء‘ نے شکایت کی کہ جرمن اسکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ میں دوسری عالمی جنگ پر کچھ زیادہ ہی زور دیا گیا ہے۔ اس بات کی تائید یوحانا نے بھی کی۔

میرکل سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اسکولوں میں تعلیم کا یکساں معیار برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں گی تو جرمن چانسلر نے جواب دیا کہ تعلیم ہر صوبے کی مقامی حکومت کا معاملہ ہے۔

ان دوران لیزا نے سوچا کہ نوجوان بلاگر اور میرکل کے نظریات غالباﹰ متصادم ہیں۔ لیزا کے بقول،’’ مجھے نہیں لگا کہ وہ واقعی ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔‘‘ لیکن پہلی بار ووٹ ڈالنے والے تینوں نوجوانوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میرکل نے حالات کو مناسب طور سے ڈیل کیا تھا۔

اگلی بار ایک تربیت یافتہ صحافی اور ٹیکنالوجی بلاگر ’ الیکسی بیکسی‘ کی تھی۔ بیکسی نے سوالات کا آغاز  ڈیزل گیٹ اسکینڈل اور ’ای موبیلیٹی‘ کے حوالے سے موقف سے کیا۔

تیسری بلاگر اشتر آئزک تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک فیشن بلاگر کا سیاسی معاملات سےکیا لینا دینا۔ لیکن اس نظریے کے برعکس آئزک نے میرکل سے کافی چبھتے ہوئے سوالات کیے۔ آئزک نے پوچھا کہ ووٹروں کی شرح میں کمی کے بارے میں میرکل نے کیا سوچا ہے اور یہ کہ دو یا تین ایسے ٹھوس اقدامات کے بارے میں بتائیں جو انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے اٹھائے ہیں۔ جرمن چانسلر نے اپنے پوڈ کاسٹ، انسٹا گرام اور فیس بک صفحات کی طرف اشارہ کیا لیکن صاف ظاہر تھا کہ نیا سوشل میڈیا چونسٹھ سالہ میرکل کے لیے مضبوط میدان نہیں ہے۔

سوالات کرنے والے آخری بلاگر ’ مسٹر وِیسن ٹو گو‘ نے چانسلر انگیلا میرکل کو ترک صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے چیلنج کیا۔ مسٹر وِیسن ٹو گو کا کہنا تھا کہ انہیں اور اُن کے ساتھیوں کو خوف ہے کہ امریکا اور شمالی کوریا میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔ میرکل نے اس بات کے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے کا کوئی عسکری حل نہیں پاتیں۔

انٹرویو کے بعد لیزا، یوحنا اور کیلیان تینوں اس بات پر متفق تھے کہ اس پروگرام سے اُن کی سیاسی ترجیحات نہیں بدلیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میرکل نے تمام سخت سوالات کے جواب دینے میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

DW.COM