1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرکل ابوجہ میں، مذہبی فسادات بھی اہم موضوع

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنے چار ملکی دورہ افریقہ کے آخری مرحلے میں نائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ نائیجریا کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہ ہیں۔

default

اس دورے میں جرمنی اور نائجیریا کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ وہاں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کشیدگی کی صورتحال، بنیادی موضوعات قرار دیے جا رہے ہیں۔

متعدد جرمن کمپنیاں نائجیریا میں سلامتی کی خراب صورتحال کی وجہ سے اس تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے شروع ہونے والے دورے میں نائجیریا میں جرمن سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی کے علاوہ وہاں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے مسئلے کو بنیادی حیثیت حاصل رہے گی۔

نائجیریا کے ایک بڑے حصے میں مختلف گروپوں کے درمیان برسوں سے جاری مسلح جھڑپوں کی وجہ سے وہاں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم مرکزی صوبے پلاٹیآؤ میں ماضی میں مسلم اور مسیحی عقیدے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے درمیان فسادات اور جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم اب یہاں انسانی حقوق اور امن کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی کاوشیں بھی جاری ہیں۔

Nigeria Bundekanzlerin Merkel Präsident Goodluck Jonathan

جرمن چانسر میرکل نائجیریا کے صدر کے ہمراہ

ماضی میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات سے متعدد مرتبہ متاثر ہونے والے شہر جوز میں امن کے لیے کام کرنے والے افراد نے، ‘‘ہم امن کے متلاشی ہیں‘‘ کے الفاظ پر مبنی ایک گیت بنایا ہے۔ مسلم اور مسیحی عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ہونے والے فسادات نے جوز شہر کو متعدد مرتبہ متاثر کیا ہے۔ اس لیے امن کے لیے کوشش کرنے والے ایک گروپ میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں اور مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے۔

جوز شہر میں مقیم مسلمانوں کا خیال ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جوز شہر کے چیف امام شیخ بلاربے داؤد کے مطابق،’ہمیں شہر کی ضلعی ایڈمنسٹریشن نہیں دی گئی۔ ہم اس شہر میں رہتے ہیں، ہم نے انتخابات بھی جیتے، مگر ہمیں فسادات میں جھونک دیا گیا۔ مسائل کی وجہ یہی ہے۔‘

داؤد شیخ کے مطابق نومبر سن 2008ء میں علاقائی انتخابات مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کا باعث بنے۔ دوسری جانب جوز شہر کے رہائشی، پیشے کے اعتبار سے وکیل اور مسیحی عقیدے سے تعلق رکھنے والے سولومون ڈالُنگ کے مطابق مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تناؤ کی وجہ علاقے میں حکومتی کنٹرول کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا کام فنڈز کا مناسب اور بلاتفریق استعمال ہے، جس میں موجودہ حکومت ناکام رہی ہے۔

کیتھولک آرچ بشپ آف جوز اگناٹیس کائیگاما نے کہا کہ جوز شہر میں صوبائی حکومت ابھی تک مہاجرین اور مقامی افراد کے درمیان تفریق قائم رکھے ہوئے ہے، اس پر نائجیریا میں پابندی عائد ہونی چاہیے۔

’’کچھ معاملات میں ہوا ہو گا کہ مسیحیوں کو گرجا قائم نہ کرنے دیا گیا ہو، یا انہیں کوئی پروگرام نشر کرنے سے روک دیا گیا ہو۔ اسی طرح ایسے بہت سے کیسز مسلمان بھی گنوا سکتے ہیں۔ ان معاملات کا تدارک ضروری ہے اور جو بھی قصوروار ہو، اسے ضرور سزا دی جائے۔‘‘

سیاسی ماہرین کے خیال میں ایک ایسے وقت میں، جب نائیجریا میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کشیدگی کا عالم ہے، جرمن چانسلر میرکل کے اس دورے میں یہ موضوع بات چیت کا ایک اہم نکتہ رہے گا۔

رپورٹ: میوش تھوماس/ عاطف توقیر

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM