1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرا کوئی قصور نہیں ہے

سوڈانی پناہ گزین نے لندن پہنچنے کے لیے یورو ٹنل سے گزرنے کی کوشش کے حوالے سے خود کو بے قصور قرار دے دیا ہے۔ اس شخص نے سرنگ کے اندر 50 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا مگر باہر نکلنے سے کچھ پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا۔

40 سالہ عبدالہارون اس وقت عالمی خبروں کی زینت بنا جب اس کی اس کوشش سے ان ہزاروں مہاجرین کی حالت زار کے بارے میں دنیا کو معلوم ہوا جو کالے میں برطانیہ اور فرانس کو ملانے والی زیر سمندر ٹنل کے فرانسیسی حصے کے قریب کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی صورت میں برطانیہ پہنچنے کی کوششوں میں ہیں۔

ہارون وہ پہلا مہاجر ہے جس نے اس سرنگ کو پیدل پار کرنے کی کوشش کی اور انگلینڈ کے مقام فولکسٹون میں نکلنے والی اس سُرنگ کے سرے تک پہنچ گیا جہاں سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم اب اسے فوجداری الزامات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا ہے جس میں ’1861ء کے ملیشیئس ڈیمیج ایکٹ‘ کے تحت کسی انجن یا بوگی کا راستہ روکنے کی کوشش کا الزام شامل ہے۔

اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز لندن کی عدالت میں ہوا۔ ہارون کو ایلملی Elmley کی جیل میں رکھا گیا ہے اور اس کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔ اس موقع پر اسے مترجم کی سہولت بھی فراہم کی گئی جو عدالت میں ہارون کے وکیل نکولس جونز کے ساتھ موجود تھا۔

سلیٹی ٹی شرٹ میں ملبوس چھوٹے بالوں والے ہارون نے اپنے مترجم کے ذریعے اپنے نام کی تصدیق کی تاہم اس کا کہنا تھا کہ جو الزام اُس کے خلاف لگایا گیا ہے وہ اس میں قصور وار نہیں ہے۔ جونز نے عدالت کو بتایا کہ ہارون کا دفاع دو اہم نکات پر ہو گا۔ پہلا یہ کہ اس نے چار اگست کو سدرن چینل ٹنل میں پیدل سفر کرتے ہوئے ریلوے کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔ دوسرا نکتہ مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے آرٹیکل 31 کی بنیاد پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کو کسی ملک میں داخل ہونے کے لیے غیر قانونی طریقہ کار استعمال کرنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

یورو ٹنل کے فرانسیسی حصے کے قریب کیمپوں میں ہزاروں افراد رہ رہے ہیں اور وہ کسی بھی طرح برطانیہ پہنچنے کی کوششوں میں ہیں

یورو ٹنل کے فرانسیسی حصے کے قریب کیمپوں میں ہزاروں افراد رہ رہے ہیں اور وہ کسی بھی طرح برطانیہ پہنچنے کی کوششوں میں ہیں

ہارون نے یور ٹنل سے گزرتے ہوئے نہ صرف سینکڑوں کی تعداد میں لگے کلوز سرکٹ سکیورٹی کیمروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہا بلکہ وہ ٹنل میں داخل ہونے سے قبل ایسی ٹیموں سے بھی بچ نکلنے میں کامیاب رہا جو لوگوں کے اس ٹنل میں داخلے کو روکنے کے لیے اپنے ساتھ سونگھنے والے کُتے بھی رکھتے ہیں۔ سوڈان سے تعلق رکھنے والا ہارون 12 گھنٹوں تک اس سُرنگ میں چلتا رہا اور اس دوران تیز رفتار ٹرینیں 160 کلومیٹر کی رفتار سے وہاں سے گزرتی رہیں۔

خاتون جج ایڈل ولیمز Adele Williams نے ہارون کو حراست میں رکھنے کا ریمانڈ جاری کیا اور مقدمے کی آئندہ کارروائی کے لیے نو نومبر کی تاریخ مقرر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقدمہ مقررہ شیڈول کے مطابق چلتا رہا تو چار جنوری 2016ء کو اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔