1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرا ووٹ صرف ٹرمپ کے لیے، اوباما کے سوتیلے بھائی کا اعلان

امریکی صدر اوباما کے سوتیلے بھائی کے مطابق وہ باراک اوباما کی کارکردگی سے ناخوش ہیں اور اپنا ووٹ صرف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو دیں گے۔ مالک اوباما کے بقول وہ امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں۔

Afrika Obama besucht Kenia

صدر اوباما کے سوتیلے بھائی مالک اوباما

کینیا میں نیروبی سے پیر پچیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق مالک اوباما نے کہا کہ وہ اپنے سوتیلے بھائی باراک اوباما کی امریکی صدر کے طور پر کارکردگی اور طرز قیادت سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں وہ اپنا ووٹ ریپبلکن امیدوار اور ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کو دیں گے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ مالک اوباما نے، جو اس وقت اپنی عمر کی چھٹی دہائی میں ہیں، مغربی کینیا میں اپنے کوگیلو نامی آبائی گاؤں سے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہا کہ وہ ایک امریکی شہری کے طور پر نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے حامی ہیں بلکہ وہ خاص طور پر سلامتی کے شعبے میں ٹرمپ کی سیاسی سوچ کے مداح بھی ہیں۔

مالک اوباما ایک امریکی شہری کے طور پر 1985ء سے واشنگٹن میں مقیم رہے ہیں، جہاں وہ مختلف اداروں کے لیے کام کرتے رہے اور پھر انہوں نے ایک مالیاتی مشیر کے طور پر اپنی ایک کنسلٹنگ کمپنی قائم کر لی تھی۔

مالک اوباما نے روئٹرز کو بتایا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں مسلمانوں کی آمد کے حوالے سے جو (متنازعہ) بیانات دیے ہیں، وہ میری طرح کے مسلمانوں کے لیے بھی قابل فہم ہیں۔ میں ایک سیاستدان کے طور پر ٹرمپ کو پسند کرتا ہوں۔ میری رائے میں وہ (ٹرمپ) جو کچھ بھی کہتے ہیں، دل سے کہتے ہیں، نہ کہ وہ صرف ایسے بیانات دیتے رہیں، جو سیاسی طور پر محض درست بات کہنے کی کوشش کا نتیجہ ہوں۔‘‘

Obama Portrait Nachdenklich 24.11.2014

امریکی صدر باراک اوباما

مالک اوباما نے اپنے اس انٹرویو میں مزید کہا، ’’میں بھی ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہوں۔ لیکن میں ایسے لوگوں کی حمایت نہیں کر سکتا، جو صرف اسلام کا نام لے کر جدھر بھی جائیں، عام لوگوں کو فائرنگ کر کے قتل کرتے پھریں۔‘‘

مالک اوباما نے اپنے سوتیلے بھائی باراک اوباما کے واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں صدر کے طور پر ’لیڈرشپ ریکارڈ‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ باراک اوباما نے امریکی عوام حتیٰ کہ امریکا اور کینیا میں اپنے وسیع تر خاندان کے لیے بھی زیادہ کچھ نہیں کیا، وہ سب کچھ جس کی آٹھ سال پہلے 2008ء کے امریکی صدارتی الیکشن کے بعد ان سے توقع کی گئی تھی۔‘‘

روئٹرز کے مطابق باراک اوباما اور مالک اوباما دو سوتیلے بھائیوں کے طور پر پہلے ایک دوسرے کے کافی قریب تھے لیکن پھر وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔ مالک اوباما وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اپنے بھائی صدر اوباما سے ملنے بھی گئے تھے اور برسوں پہلے باراک اوباما کی میشل اوباما کے ساتھ شادی کی تقریب میں ’بیسٹ مین‘ بھی وہی بنے تھے۔

مالک اوباما نے باراک اوباما کی سیاست پر اپنی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کی وجہ سے انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بھائی پر بھی تنقید کر سکیں، چاہے وہ بھائی امریکی صدر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

DW.COM