1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میرا وطن کہاں ہے؟ پاکستان میں افغان مہاجر کی روداد

پاکستان میں گزشتہ چالیس برس سے رہنے والی نوشین بی بی کو خوف ہے کہ اسے افغانستان بھیج دیا جائے گا۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے، نوشین بی بی جس سے واقف ہے، وہ تو اپنے آبائی ملک افغانستان کو جانتی تک نہیں۔

نوشین بی بی کی عمر اس وقت صرف تین برس تھی، جب سن 1979ء میں افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت کے بعد قریب چھ ملین افغان باشندوں نے سرحد عبور کر کے پاکستان اور ایران میں پناہ لی تھی۔

پاکستان کے شمالی علاقے میں نوشین کے خاندان نے سکونت اختیار کی اور یہیں نوشین بی بی نے اپنی پوری عمر گزاری، شادی کی اور ماں بنی۔

تاہم اب پاکستانی حکومت ملک میں موجود افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کی کوششوں میں تیزی لا رہی ہے اور اسی تناظر میں پاکستان میں موجود ہزاروں افغان مہاجرین ایک خوف اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں۔

پاکستانی قانون کے مطابق، کوئی غیرملکی خاتون کسی پاکستانی شہری سے شادی کر کے پاکستانی شہریت حاصل کر سکتی ہے، تاہم نوشین بی بی نے کبھی کاغذی کارروائی پوری نہیں کی اور اپنی پیدائشی افغان شہریت تبدیل نہ کی۔

تھومس روئٹرز فاؤنڈیشن سے بات چیت کرتے ہوئے مٹی کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والی پانچ سال کے بچے کی ماں نوشین بی بی نے کہا، ’’میں تو پاکستان چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘

Pakistan Peschawar UNHCR Flüchtlingslager Frauen Kinder (picture-alliance/AP Photo/M. Sajjad)

پاکستان میں اب بھی لاکھوں افغان مہاجر موجود ہیں

ان کا کہنا تھا، ’’میں اپنے بچوں، اپنے شوہر اور سسرال کو چھوڑ کر کیسے جاؤں؟‘‘

پاکستان میں قریب ڈیڑھ ملین افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔ مہاجرین کی بڑی تعداد کے لحاظ سے پاکستان سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق قریب اتنی ہی تعداد میں مزید افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کے بھی یہاں رہ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسلام آباد حکومت نے حالیہ کچھ عرصے میں افغان باشندوں کی ملک بدری کے لیے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اور افغانستان بھیجے گئے افراد کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں برس اگست میں واپس بھیجےگئے افغان باشندوں کی تعداد 67 ہزار 57 تھی جب کہ جولائی میں یہ تعداد 12 ہزار نو سو باسٹھ تھی۔

بتایا گیا ہے کہ رواں برس پاکستان سے افغانستان بھیجے جانے والے مہاجرین کی تعداد تین لاکھ اسی ہزار کے قریب ہے، جب کہ اب بھی چودہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجر پاکستان میں موجود ہیں۔