1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میرا لشکرِ طیبہ سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا: حافظ سعید

امریکہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قراردی جانے والی لشکر طیبہ کے مبینہ سربراہ حافظ سعید کا دعویٰ ہے کہ ان کا اس جہادی تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔

default

برطانوی روزنامے دی انڈیپینڈینٹ کوانٹرویو دیتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ یہ بھارتی پروپیگنڈے کا نیتجہ ہے کہ ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور انہیں دہشت گرد سمجھا جارہا ہے۔

حافظ سعید کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے جب پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں کہ اسلام آباد دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں مخلص ہے اور یہ کہ پاکستان کی اس حوالے سے تمام عسکری اور مالیاتی مدد کی جانی چاہیے۔

USA Russland Abrüstung Barack Obama Pressekonferenz

امریکہ نے حال ہی میں پاکستانی حکومت سے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے

اس برطانوی روزنامے کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کی ایک میٹنگ میں، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس بھی موجود تھے، صدر اوباما نے پاکستانی وفد سے خصوصی طور پر حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

لیکن اوباما کے مطالبے کے برعکس حافظ سعید پاکستان کے شہر لاھور میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ دو پولیس اہلکار اس جہادی رہنما کے گھر پر حفاظت کے لئے متعین ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حافظ سعید پاکستان کی طاقتورجاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی کے سایہء شفقت میں ہیں۔

کسی بھی مغربی صحافی کو اپنے پہلے انٹرویو میں حافظ سعید نے کہا کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے لشکر طیبہ کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں لیکن یہ کہ اُن کا اس جہادی تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی وہ ممبئی حملوں سمیت کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔

Wahlen Kashmir Indien

حافظ سعید بھارت کے زیرِانتظام کشمیرکی آزادی کے لئےلشکرطیبہ کی جدوجہد پریقین رکھتے ہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اُن کے خلاف دہشت گردی کا کوئی بھی مقدمہ ثابت نہیں کرسکی اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر الزام لگایا کہ اس نے بیرونی دباؤ میں آکر ان کی کئی آزادیوں پر پابندی لگائی۔

حافظ سعید نے کہا کہ وہ افغانستان میں سوویت جارحیت کے خلاف تھے اور یہ کہ نیٹو اور امریکہ کو بھی افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف ایک مرتبہ افغانستان کا دورہ کیا تھا اور وہاں وہ صرف مشاہدے کے لئے گئے تھے۔

اسامہ بن لادن سے ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر حافظ سعید نے کہا کہ ان کی القاعدہ کے سربراہ سے صرف ایک مرتبہ سعودی عرب میں حج کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی، جہاں القاعدہ کے رہنما دعا مانگ رہے تھے۔ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسامہ سے صرف حال احوال پوچھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جماعتہ الداعوة نامی تنظیم کے سربراہ ہیں اوریہ ایک غیرسرکاری ادارہ ہے، جو سماجی اور فلاحی کاموں میں مصروفِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کچھ برسوں پہلے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیرمیں زلزلہ آیا تھا تو جماعتہ الداعوة نے بہت موثر اندازمیں متاثرینِ زلزہ کی مدد کی تھی۔

حافظ سعید کا کہنا تھا کہ گیارہ ستمبرکے بعد لشکر طیبہ کو کالعدم قراردیا گیا لیکن یہ کہ ان کی تنظیم جماعتہ الداعوة پر آج بھی کوئی پابندی نہیں ہے اور ان کی اس تنظیم کے ملک بھر میں سینکڑوں دفاترہیں، جو سماجی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: کشور مصطفیٰ