1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میرا صدر نہیں‘، ٹرمپ کے خلاف ملک گیر مظاہرے

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی مختنلف شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ مظاہرین ’ناٹ مائی پریزیڈنٹ‘ یعنی میرا صدر نہیں کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر آکلینڈ میں بدھ 10 نومبر کی شب کیے جانے والے احتجاج میں مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی مرتبہ امتیازی بیانات دے چکے ہیں اور ساتھ ہی مہاجرین، سیاہ فاموں اور مسلمانوں کے خلاف بھی تبصرے کر چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ٹرمپ کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ آکلینڈ میں مظاہرین کے تعداد چھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران شہر کا ٹریفک جام ہو گیا۔ مظاہرین نے وہاں موجود پولیس پر مختلف اشیاء پھینکیں جس پر پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنا پڑے۔

اس کے علاوہ نیو یارک، واشنگٹن اور فلاڈیلفیا میں بھی ٹرمپ مخالف مظاہرے کیے گئے۔ شکاگو میں ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے باہر ایک ہزار سے زائد افراد نے جمع ہونے کی کوشش کی اور ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ شکاگو کے مظاہرے میں شریک بائیس سالہ آدریانا ریزو نے کہا، ’’ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اس سے بہت خوفزدہ ہوں۔ مجھے اصل ڈر سفید فام قومیت پرستی میں اضافے سے ہے۔‘‘ برکلے میں ڈیڑھ ہزار کے قریب اساتذہ اور طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور ’’ہمارے صدر نہیں ہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔ زیادہ تر احتجاج پر امن رہے تاہم آکلینڈ میں لوگوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور کوڑے کو آگ لگا دی۔

دوسری جانب سیاٹل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے قریب پیش آیا۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ سیاٹل پولیس کے مطابق تاہم اس واقعے کا بظاہر ٹرمپ مخالف مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق فائرنگ کرنے والا شخص ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا اس وقت قریب ہی کی سڑکوں سے ٹرمپ کے خلاف ریلی گزر رہی تھی۔