1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’میرا حج سب سے پہلے میرے ملک کے نام‘ : شامی پناہ گزین خاتون

مکہ میں حجاج کے لیے بنائے گئے کیمپوں میں ایک کیمپ ان حاجیوں کا مسکن بھی ہے جو شام سے ہجرت کر چکے ہیں یا شام میں لڑائی میں شامل رہ چکے ہیں۔ یہ افراد جنگ کی ہولناک کہانیاں سناتے ہیں۔

Saudi-Arabien Hadsch - PilgerInnen in Mekka

حج کی ادائیگی کے لیے آنے والی ایک شامی پناہ گزین خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنا حج اپنے ملک کے نام کرتی ہیں

پہلی نظر میں تو یہ کیمپ بھی عازمین حج کے لیے بنائے گئے دیگر ہزاروں کیمپوں جیسا ہی دکھائی دیتا ہے لیکن مکہ سے باہر قائم اس کیمپ میں شامی پناہ گزین اور باغی جنگجو مقيم ہیں ۔ اڑتیس سال فاطمہ کو اپنا آبائی شہر بابا عمرو، جو حمص کے پڑوس میں واقع ہے، سرکاری فوج کے حملے کے بعد چھوڑنا پڑ گيا تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح شام سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ فاطمہ پہچانے جانے کے خوف سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سےگفتگو میں صرف اتنا کہا کہ اس نے شام سے ہجرت جنگ اور خوف کے سبب کی۔ فاطمہ اور اس کا شوہر قطر میں تین سال سے مقیم ہیں اور بطور استاد ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کے دو چھوٹے بچے بھی اب اسکول جاتے ہیں۔ فاطمہ صرف اس شرط پر بات کرنے کے لیے تیار ہوئی کہ وہ اپنے خاندان کا نام ظاہر نہیں کرے گی اور نہ ہی اپنا چہرہ دکھائے گی۔

شام میں قریب ساڑھے پانچ سال سے جاری جنگ میں تقریباﹰ دو لاکھ نوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فاطمہ کی طرح لاکھوں ديگر افراد دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ فاطمہ نے اپنے حج کو اپنے وطن شام کے نام کیا ہے۔ فاطمہ کا کہنا تھا، ’’ہم شام میں اپنے خاندان والوں کے لیے دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کی مدد کرے۔‘‘

Syrien Idlib - Zerstörung nach Luftangriff

عبداللہ ابو زید کا کہنا تھا کہ اس کا شہر طویل بمباری کے بعد ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے

کيمپ سے چند سو گز دور دو مرد حجاج کسی بحث میں مصروف تھے۔ ان میں سے ایک نے جس کا نام عبداللہ ابو زید تھا اور جو جنگ سے قبل بزنس کا طالب علم تھا، نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم یہاں آزاد شامی باشندوں کی حیثیت سے حج کرنے آئے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ظلم کی حامی کوئی بھی حکومت جو یہ کہتی ہے کہ سعودی حکومت شامیوں کو حج کرنے سے محروم رکھتی ہے، جھوٹی ہے۔‘‘

عبداللہ ابو زید کا تعلق شام کے شہر انادان سے ہے جو باغیوں کے زیر قبضہ علاقہ ہے اور حلب کے شمال میں واقع ہے۔ ابو زید کا کہنا تھا کہ حج کے مناسک ختم ہوتے ہی وہ اپنے آبائی شہر لوٹ جائیں گے اگرچہ حکومتی فورسز کی طویل بمباری نے اس شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

دوسرے شامی فرد کا نام محمد لیمام تھا جو شام میں جنگ کے آغاز سے قبل عربی ادب کے سالِ اول کے طالب علم تھا۔ لیکن جنگ نے اسے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ لیمام نے بتایا کہ اب وہ جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہے جو بمباری اور تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ محمد لیمام کا کہنا تھا کہ وہ صرف حج کرنے آيا ہے اور اپنے شہر واپس جا کر دوبارہ لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔اس نے مزید کہا،’’ اگر خدا نے چاہا تو ہم اپنے ملک کو آزاد کرا لیں گے۔‘‘

DW.COM