1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میراکمار بھارتی پارلیمان کی پہلی خاتون اسپیکر

میراکمار بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کی پہلی خاتون اسپیکر منتخب ہوگئی ہیں۔ا ن کے انتخاب کو بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اورکامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

default

بھارتی لوک سبھا کی نئی اسپیکر میرا کمار

حکمراں کانگریس پارٹی کی ممبرپارلیمان 64 سالہ میرا کمار کوبدھ کے روز اتفاق رائے سے لوک سبھا کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ مجموعی طور پر 13جماعتوں اور گروپوں نے ان کے نام کی تجویز پیش کی۔پیشیے وکیل اور ڈپلومیٹک کیریر چھوڑ کر سیاست میں آنے والی میرا کمارمشہور دلت رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم جگ جیون رام کی بیٹی ہیں۔ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں میرا کمار کے اسپیکر کے عہدے پرفائز ہونے کو بھارت میں سیاست اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کے بڑھتے ہوئے عمل دخل اور انہیں بااختیار بنانے کی کوششوں کی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔میرا کمار نے بھی اسپیکر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اسے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ اس مرتبہ عام انتخابات میں گذشتہ تمام انتخابات کے مقابلے سب سے زیادہ یعنی 59 خواتین منتخب ہوکر پارلیمان پہنچی ہیں۔نومنتخب اسپیکر نے کہا کہ وہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے کی حامی ہیں اور قانون ساز اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کے بل کو منظور کرانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پید اکرنے کی کوشش کریں گی۔ یہ بل مختلف وجوہات کی بنا پر پچھلے کئی برسوں سے پارلیمان میں پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ میرا کمار نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا پارلیمان میں پہنچنا اس بات کی دلیل ہے کہ اب عورتوں کو زیادہ دنوں تک سماجی پابندیوں میں جکڑ کر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

Indien nach den Wahlen Manmohan Singh und Sonia Gandhi

کانگریس پارٹی کی سربراہ بھی خاتون رہنما سونیا گاندھی ہیں

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ 556 خواتین نے الیکشن میں اپنی قسمت آزمائی تھی۔ا ن میں سے کامیاب ہونے والی خواتین میں سے 23 کا تعلق کانگریس پارٹی سے اور 13 کابھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے، جب کہ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی چار چار خواتین پارلیمان کے لئے منتخب ہوئیں۔ جنتا دل، شرومنی اکالی دل اور نیشلسٹ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو دو خواتین پارلیمنٹ پہنچی ہیں۔ ان کی علاوہ تلنگا راشٹریہ سمیتی، راشٹریہ لوک دل، شیو سینا، دراوڑ مونیتر کزگم اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی ایک ایک خاتون پندرہویں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ سب سے زیادہ 13 خواتین اترپردیش سے منتخب ہوئی ہیں۔ دوسرا نمبر مغربی بنگال کا ہے جہاں سے 7 خواتین لوک سبھا پہنچی ہیں۔ مدھیہ پردیش سے 6 آندھرا پردیش سے 5 اور گجرات، بہار اور پنجاب سے چار چار خواتین منتخب ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ ان دنوں بھارتی سیاست میں عورتوں کا بول بالا ہے۔ملک کے اعلی ترین یعنی عہدہ صدارت پر جہاں ایک خاتون پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل فائز ہیں وہیں حکمراں کانگریس پارٹی کی صدر او رمتحدہ ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن بھی ایک خاتون سونیا گاندھی ہیں جب کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے ڈپٹی لیڈر کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما سشما سوراج کا نام تقریبا طے ہے۔

میرا کمار نے اپنی تقریر میں کہا کہ حالانکہ 1947 میں بھارت کو برطانیہ کی غلامی سے آزادی مل گئی تھی لیکن یہ صرف سیاسی آزادی تھی اور ملک حقیقی معنوں میں اسی وقت آزاد ہوگا جب لوگوں کا میعارزندگی بلند ہوگا، ان کی غربت دور ہوگی، انہیں روٹی کپڑا اور مکان ملے گا اور انہیں استحصال، ناانصافی اور ذلت و جبر سے نجات ملے گی۔ میرا کمار نے کہا کہ اس مرتبہ بڑی تعداد میں نوجوان منتخب ہوکر پارلیمان پہنچے ہیں، جو ایک اچھی علامت ہے لیکن ہمیں نوجوانوں کے جذبا ت کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ صرف سیاسی لیڈروں پرنکتہ چینی نہ کرے بلکہ پارلیمان میں ہونے والی تعمیری بحث بھی عوام تک پہنچائے۔