1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میدویدیف کا جزائر کریل کا دورہ: جاپان شدید ناراض

جاپان کے ساتھ چند ‌خاص سمندری جزائر کی ملکیت سے متعلق تنازعے کے پس منظر میں روسی صدر دمتری میدویدیف کے پیر کے روز کریل کے ایک جزیرے کے دورے کے باعث ٹوکیو اور ماسکو کے مابین نئی کشیدگی پیدا ہو گئی۔

default

کوناشیری کے جزیرے پر ایک جاپانی قبرستان کی باقیات

بحر الکاہل کے سمندری علاقے میں واقع جنوبی کریل کے جزائر دراصل چار جزیروں کا ایک ایسا مجموعہ ہے، جس پر روس نے دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ روس ان کو جنوبی کریل کے جزائر کا نام دیتا ہے جبکہ جاپان میں، جس کا قریب 65 برس پہلے تک ان جزیروں پر قبضہ تھا، جاپان کے شمالی علاقے کہا جاتا ہے۔

Naoto Kan Japan Premierminister NO FLASH

جاپانی وزیر اعظم ناؤتو کان

ان میں سے ایک چھوٹے سے جزیرے کے روسی صدر میدویدیف کے دورے پر آج جاپان نے سفارتی سطح پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ماسکو یہ جزائر جاپان کو واپس کرے۔ ماسکو اور ٹوکیو کے مابین ان جزائر کی ملکیت کا یہی تنازعہ دراصل دونوں ملکوں کے مابین کئی عشروں سے کچھاؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔

اس بارے میں جاپانی وزیر اعظم ناؤتو کان نے ٹوکیو میں ملکی پارلیمان کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کے اس موقف سے پوری دنیا آگاہ ہے کہ یہ چاروں جزائر ٹوکیو کی ملکیت ہیں، جو جاپان کے شمالی جزائر کا حصہ ہیں۔ ’’یہی وجہ ہے کہ روسی صدر میدویدیف کا ان جزائر میں سے ایک کا دورہ قابل افسوس ہے۔‘‘

روسی صدر نے ان جزائر میں سے جس چھوٹے سے جزیرے کا دورہ کیا، اسے روسی زبان میں ’کوناشیر‘ اور جاپانی زبان میں ’کونا شیری‘ کہتے ہیں۔ یہ دورہ کسی بھی روسی رہنما کا اس جزیرے کا آج تک کا پہلا دورہ تھا۔

روسی صدر کے کوناشیر کے دورے پر جاپانی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہ صدر میدویدیف کے اس دورے پر ’’جاپانی ردعمل ناقابل قبول‘‘ ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جزائر روسی سرزمین کا حصہ ہیں اور روسی صدر نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے جو وفاق روس کا حصہ ہے۔

Russland Dmitri Medwedew Anerkennung von Abchasien und Südossetien Fernsehansprache

روسی صدر میدویدیف

صدر میدویدیف نے جنوبی کریل کے جس جزیرے کا دورہ کیا، وہ جاپان کی ملکیت شمالی جزیرے ہکائیڈر سے صرف دس میل کے فاصلے پر ہے۔ کوناشیر کے دورے کے دوران دمتری میدویدیف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روسی حکومت وہاں اور زیادہ سرمایہ کاری کرے گی کیونکہ ’’یہ بات اہم ہے کہ یہ جزیرے بھی ترقی کریں۔‘‘

صدر میدویدیف نے صحافیوں کے ذریعے اس جزیرے کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی ’’عوامی زندگی اسی طرح بہتر ہوگی، جس طرح وسطی روس میں دیکھنے میں آچکا ہے۔‘‘

روسی صدر نے کوناشیرکا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر کیا ہے کہ جب ایشیا بحرالکاہل کی اقتصادی تعاون کی تنظیم APEC کے جاپان میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اب زیادہ عرصہ باقی نہیں بچا۔ تیرہ اور چودہ نومبر کو جاپان میں ہونے والے اس اجلاس میں اس تنظیم کے رکن 21 ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کریں گے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس